بی جے پی سے ہاتھ ملانے پر جے ڈی یو میں شدید اختلاف، ان بڑے لیڈران نے ظاہر کی ناراضگی

جے ڈی یو کے قدآور لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ علی انور اور شرد یادو کھل کر مخالفت میں آ گئے ہیں۔

Jul 27, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Jul 27, 2017 12:37 PM IST

نئی دہلی۔ گزشتہ کئی دنوں سے بہار کی سیاست میں جاری اتھل پتھل کے واقعات میں کل شام پہلے نتیش کمار نے تیجسوی یادو کی بدعنوانی کے معاملے پر استعفی دے کر مہا گٹھ بندھن کو توڑا تو ان واقعات پر پہلے سے نظریں جمائے بیٹھی بی جے پی نے نتیش کے استعفیٰ کے فوری بعد ہی انہیں اپنی حمایت دینے کا اعلان کر دیا۔ اب بی جے پی کی حمایت اور گٹھ بندھن ٹوٹنے کو لے کر خود جے ڈی یو میں شدید اختلاف پایا جا رہا ہے۔ جے ڈی یو کے قدآور لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ علی انور اور شرد یادو کھل کر مخالفت میں آ گئے ہیں۔

جے ڈی یو کے سابق صدر شرد یادو نے اس پورے واقعات پر میڈیا کے سامنے ہی اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ شرد یادو نے کہا، 'نتیش کمار نے حکومت بنانے کا فیصلہ بہت جلدی میں لیا ہے۔ اتحاد توڑ کر اتنی جلدی بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنانے کے فیصلے کی میں حمایت نہیں کرتا ہوں۔ ' بتا دیں کہ 2013 میں بی جے پی سے رشتہ ٹوٹنے کے بعد سے ہی شرد یادو بی جے پی پر کھل کر حملہ کرتے آئے ہیں۔

بی جے پی سے ہاتھ ملانے پر جے ڈی یو میں شدید اختلاف، ان بڑے لیڈران نے ظاہر کی ناراضگی

شرد یادو: فائل فوٹو

وہیں، جے ڈی یو کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ علی انور نے بھی ضمیر کی آواز دہرا دی۔ جہاں نتیش کمار نے کہا کہ انہوں نے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا۔ وہیں، ان کی پارٹی کے ایم پی علی انور کہہ رہے ہیں کہ ان کا ضمیر اس فیصلے کے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، 'بی جے پی کی جن باتوں سے ہمیں پرہیز تھا، بی جے پی اب اسی کی طرف اور شدت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز