یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کا امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ ظالمانہ اور غیرقانونی اقدام : مولانا کلب جواد

Dec 08, 2017 03:44 PM IST | Updated on: Dec 08, 2017 03:44 PM IST

لکھنؤ: مجلس علماء ہند نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے اور بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کے لئے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئےاس اشتعال انگیز بیان کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے ۔ مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے ٹرمپ کے فیصلہ کو خطہ کی سلامتی کےلئے خطرہ بتاتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کےاس غیر قانونی اور ظالمانہ فیصلے کی بنیاد پر دنیا بھرکے مسلمانوں میں غم و غصہ کا ماحول ہے ۔یہ فیصلہ عالمی امن کے لئے خوش آئند قدم نہیں ہے ۔مولانانے کہاکہ امریکہ عالمی قانون اور بین الاقوامی خدشات کو نظرانداز کررہاہے جس سے امن عالم کو خطرہ لا حق ہوسکتاہے ۔مولانانے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ ٹرمپ کے غیر قانونی اور اشتعال انگیز فیصلے کے خلاف ہنگامی اجلاس طلب کرے اور عالمی امن کی بقاء میں نمایاں کردار ادا کرے ۔

اس موقع پر مولانا کلب صادق نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ نواز ملکوں پر تنقید کرتےہوئے کہاکہ کیا اب بھی مسلم حکمران امریکہ و اسرائیل نوازی سے باز نہیں آئیں گے ؟مسلم ممالک کو چاہئے کہ امریکہ اور اسرائیل سے اپنے تعلقات منقطع کریں اور انکے پروڈکٹس کا بائیکاٹ کریں ۔ مولانا صادق نے کہاکہ دنیا کو سمجھ لینا چاہئے کہ قبلۂ اول بیت المقدس مسلمانوں کے لئے محترم ہے اور اس پر مسلمانوں کا اولین حق ہے ۔ہم فلسطین کے مظلوموں کے حامی ہیں اور ہمارے ملک کی پالیسی ہمیشہ فلسطین حامی رہی ہے اس لئے اگر عالمی ادارے ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف کھڑے نہیں ہونگے تو ہندوستانی مسلمان احتجاجی مظاہروں پر مجبور ہونگے ۔

یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کا امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ ظالمانہ اور غیرقانونی اقدام : مولانا کلب جواد

مولانا نے کہاکہ ہمارا ملک امن پسند ہے اور پوری دنیا جانتی ہے کہ فلسطین کی زمین اور بیت المقدس پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے جسکے خلاف پوری دنیا میں ماہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن یوم القدس کے نام سے احتجاج کیا جاتاہے ۔مولانا صادق نے مزید کہا کہ یونیسکو اجلاس میں اقوام متحدہ نے مسجد اقصیٰ اور دیوار براق پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا تھا اس لئے اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہےکہ عالمی قانون سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے امن دشمن ممالک کے خلاف سخت قدم اٹھائے ۔

مجلس علماء ہند کے تمام اراکین نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو ظالمانہ اور غیر سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر دنیا کے تمام مسلمان ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو اتحاد اسلامی کا ثبوت دیتے ہوئے یوم القدس کے نام سے مناتے اور اسرائیل کے ظلم و دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتے تو کبھی امریکہ کی یہ جرات نہ ہوتی کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرتااور بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کی ہمت کرتا ۔ہمیشہ ہماری کوتاہیوں اور انتشار کا فائدہ اٹھایا گیاہے اس لئے ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اتحاد اسلامی کا ثبوت دیتے ہوئے ٹرمپ کے اس احمقانہ اقدام کی مذمت کریں اور ایک ساتھ احتجاج کریں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز