کیا سری نگرمیں ہےعیسیٰ مسیح کی مقبرہ؟ کوئی مانتا ہے کہ ہاں توکوئی کرتا ہےانکار

عیسیٰ مسیح کا مقبرہ سری نگر کے روضہ بل شرائن کے قریب دو ہزار سال پرانی عیسی کی قبر بتائی جاتی ہے۔ حالانکہ اس میں اختلاف بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

Jul 05, 2018 07:43 PM IST | Updated on: Jul 05, 2018 07:45 PM IST

کہا جاتا ہے کہ جب اسرائیل میں عیسیٰ مسیح کو صلیب (سولی) پر لٹکا دیا تو وہ اس کے بعد بھی زندہ رہے تھے، لیکن پُراسرار طریقے سے کہاں غائب ہوگئے، یہ آج بھی پُراسرار ہی ہے۔ کچھ تاریخ کے ماہرین اور محققین کا ماننا ہے کہ عیسیٰ مسیح کے یہ پراسرار زمانے کشمیر میں گزرے۔ سری نگر کے روضہ بل شرائن کے قریب دو ہزار سال پرانی عیسی کی قبر بتائی جاتی ہے۔

کئی مؤرخین کا ماننا ہے کہ عیسیٰ مسیح کا انتقال سولی پر چڑھنے سے نہیں ہوا تھا۔ رومن کے ذریعہ سولی پر چڑھائے جانے کے بعد بھی وہ بچ گئے۔ پھر مشرق وسطیٰ ہوتے ہوئے ہندوستان آگئے۔ ان کی باقی کی زندگی  ہندوستان میں ہی گزری۔ روضہ بل میں جس شخص کا مقبرہ ہے اس کا نام یوجا آصف ہے۔ مورخین کا ماننا ہے کہ یوجا آصف کوئی اور نہیں بلکہ عیسیٰ مسیح یا جیسس ہی ہیں۔

کیا سری نگرمیں ہےعیسیٰ مسیح کی مقبرہ؟ کوئی مانتا ہے کہ ہاں توکوئی کرتا ہےانکار

دوسری طرف روضہ بل زیارت کے نگراں محمد امین نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ مغربی دنیا سے بعض لوگ یہ درخواست لے کر بھی آئے کہ وہ اس مقام پر ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں، لیکن امین کے بقول اس درخواست کو قبول نہیں کیا گیا۔  محمد امین کے مطابق ایسے دعووں سے مقامی آبادی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جارہی ہے اوراسی لئے روضہ بل زیارت کو سیاحوں کے لئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

jesus1

ایک طرف دعوی تو دوسری طرف انکار

دوسری طرف یہ بات بھی متنازعہ ہے کہ  حضرت عیسیٰ  کی قبر کشمیر میں ہے یا نہیں، ایک طرف دعویٰ اور دوسری طرف طنز، دونوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔  1973 میں ایک مقامی صحافی عزیز کشمیری نے ’کرائسٹ ان کشمیر‘ نامی کتاب لکھی۔ اس کے بعد اس موضوع پرکئی اورکتب شائع ہوئیں۔ وہیں کشمیر میں آباد مسلم اکثریت اور مؤرخین اس کتاب میں کئے گئے دعووٴں کو طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ اللہ کے پیغمبروں میں سے ایک ہیں جبکہ مسیحی برادری انہیں خدا کا بیٹا مانتی ہے۔ ایک مقامی عالم کے مطابق اگر حضرت عیسیٰ کے کشمیر آنے کی تھیوری میں کوئی سچائی ہوتی، تو آج کشمیریوں کی اکثریت مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہوتی۔

تمام ڈاکیومنٹری اور کتابوں میں ذکر 

کرائسٹ کے ہندوستان آنے پر بی بی سی لندن نے 42 منٹ کی ڈاکیومنٹری ’’جیسس انڈیا‘‘ بنائی۔ سری لنکا میں تقریباً سوا گھنٹے کی ایک ڈاکیومنٹری بنائی گئی۔ ’’جیسس وازآ بودھشٹ منک‘‘ عیسی کے بھارت آنے پر تمام کتابیں لکھی گئیں۔ کئی دہائی پہلے کشمیر کے مشہور رائٹر عزیز کشمیری نے اپنی کتاب ’’کرائسٹ ان کشمیر‘‘ سے لوگوں کا دھیان کھینچا (جس کا ذکر اوپر کیا گیا)۔ آندریس فیرکیسرنے ’’جیسس ڈائڈ ان کشمیر‘‘ لکھی تو مشہور رائٹر ایڈورڈ ٹی مارٹن نے ’’کنگ آف ٹریولس: جیسس لاسٹ ایئر ان انڈیا‘‘ لکھی۔

پہلگان میں یہودی نسل کے باشندے

سجین اوس نے بھی اسی موضوع پر اہم کتاب لکھی۔ جموں وکشمیرآرکیولوجی ریسرچ اینڈ میوزیم میں آرکائیو محکمہ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر فداحسنین کی بھی اس موضوع میں دلچسپی تب پیدا ہوئی، جب وہ لداخ گئے۔ انہیں اس بارے میں بتایا گیا ، تب انہوں نے ریاست میں اس متعلق پرانی کتابیں اور کالم تلاش کرنے شروع کئے، جو کچھ انہیں ملا۔ وہ اشارہ کرتا تھا کہ عیسیٰ مسیح کے ہندوستان آنے کی بات میں دم ہے۔ پہلگام کا علاقہ ڈی این اے کی ساخت کی بنیاد پر مسلمان بنے یہودی نسل کے لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔

سوال بھی ہیں

کئی ماہرین نے تحقیق سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ قبر کسی اور کی نہیں بلکہ عیسیٰ مسیح یا جیسس کی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگرعیسیٰ مسیح کی موت سولی پر چڑھائے جانے کی وجہ سے یروشلم میں ہوئی تو ان کا مقبرہ 2500 کلومیٹر دور کشمیر میں کیسے ہوسکتا ہے۔ بائبل بھی عیسی کو سولی پرچڑھانے کے بعد ان کے 12 بارالگ الگ وقت پرلوگوں کے سامنے آکرانسانی طریقے سے زندہ ہونے کا سرٹیفکیٹ دیتا ہے۔

عیسیٰ مسیح کے سلک روٹ سے کشمیر آنے کا دعوی 

عیسیٰ مسیح نے 13 سال سے 30 سال کی عمر کے درمیان کیا کیا، یہ مکمل طور پر پراسرار ہے۔ بائبل میں ان کے مذکورہ سالوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ 30 سال کی عمرمیں انہوں نے یروشلم میں یوحنا (جان) سے ترغیب لی۔ ترغیب کے بعد وہ لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ زیادہ ترماہرین کے مطابق 29 عیسوی کوعیسیٰ یروشلم پہنچے۔ وہیں ان کو سزا دینے کی سازش رچی گئی، جب انہیں صلیب پر لٹکایا گیا، اس وقت ان کی عمر تقریباً 33 سال تھی، اس کے دو دن بعد ہی انہیں ان کی قبرکے پاس زندہ دیکھا گیا، پھروہ کبھی یہودی ریاست میں نظرنہیں آئے، اس کے بعد کے وقت میں ان کے کشمیرمیں ہونے کا ذکر ہے۔ عیسیٰ مسیح نے دمشق، شام کا رخ کرتے ہوئے سلک روٹ پکڑا۔ وہ ایران، فارس ہوتے ہوئے ہندوستان پہنچے، جہاں کشمیر میں وہ 80 سال کی عمر تک رہے۔

jesus2

احمدیہ فرقہ بھی مانتا ہے

ہندو گرنتھ  بھوشیہ پران میں بھی مبینہ طور پر ذکر ہے کہ عیسیٰ مسیح ہندوستان آئے تھے۔ انہوں نے کرشنپا راجا شالی واہن سے ملاقات کی تھی۔ مسلمانوں کا احمدیہ فرقہ بھی اس پر یقین کرتا ہے کہ روضہ بل میں موجود مقبرہ عیسیٰ مسیح کا ہے۔ احمدیہ فرقہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد نے 1898 میں لکھی اپنی کتاب ’’مسیحا ہندوستان میں‘‘ یہ لکھا کہ روضہ بل واقع مقبرہ عیسیٰ مسیح کا ہی ہے۔

روسی مورخین نے پہلی بار کیا تھا یہ دعوی

جرمن رائٹر ہولگرکرسٹن نے اپنی کتاب ’’جیسن لیوڈ ان انڈیا‘‘ میں اس بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ پہلی بار 1887 میں روسی مورخ، نکولائی الیکساندرووچ نوتووچ نے امکان ظاہر  کیا تھا کہ شاید عیسیٰ مسیح ہندوستان آئے تھے۔

ہندوستانی حکومت کی ڈاکیومنٹری کیا کہتی ہے

اس بارے میں ہندوستانی حکومت کے ذریعہ بنائی گئی تقریباً 53 منٹ کی ڈاکیومنٹری ’’جیسس ان کشمیر‘‘ کمال کی ہے، اس نے بہت مستند طریقے سے بتایا ہے کہ کس طرح جیسس ہندوستان میں آکر رہے۔ ان کا یہ سفر لداخ اور کشمیر میں تھا۔

jesus3

حالانکہ رومن کیتھولک چرچ اور ویٹکن اسے نہیں مانتے۔ یہ ڈاکیومنٹری اشارہ کرتی ہے کہ جیسس اپنے خاص لوگوں کے ساتھ کشمیرآئے تھے، پھریہیں کے ہوکررہ گئے۔ ان کے ساتھ آئے یہودی بھی یہیں کے باشندے ہوگئے۔

کہاں ہے سری نگر میں یہ مقبرہ؟

سری نگر کے جس چھوٹے سے محلے خان یار میں یہ مقبرہ بتایا جاتا ہے، وہ گزشتہ کچھ سالوں میں پوری دنیا کے عیسائیوں اور مذہبی مورخین کی توجہ کا مرکز بھی بنتی رہی ہے۔ خان یار کے روضہ بل میں جو قبر ہے، وہ شمال مشرق سمت میں ہے جبکہ مسلمانوں کی قبریں جنوب مغرب میں ہوتی ہیں۔

سنجے شریواستو کی تفصیلی رپورٹ 

( نوٹ: مضمون نگارکی اس رائے سے نیوز 18 اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز