بیٹی پیدا ہونے پر تین طلاق دے کر گھر سے نکالا، متاثرہ نے کہا اپنا لوں گی ہندو مذہب

Jul 06, 2017 01:23 PM IST | Updated on: Jul 06, 2017 01:23 PM IST

جھانسی۔ اتر پردیش کے جھانسی ضلع میں بیٹی پیدا ہونے پر شادی کے 12 سال بعد بیوی کو تین طلاق دے کر گھر سے نکالنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انصاف کے لئے بھٹک رہی خاتون نے شرعی عدالت کی بھی پناہ لی، لیکن وہاں بھی مدد سے انکار کر دیا گیا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ سے منسلک اس عدالت کے قاضی (جج) نے کہا کہ ایک ساتھ تین طلاق دیا گیا ہے۔ طریقہ تو غلط ہے، لیکن اگر شوہر کہتا ہے تو پھر طلاق مان لیا جائے گا۔ شرعی عدالت سے مدد نہیں ملنے پر عدالت کے باہر متاثرہ ممتاز بیگم نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا کہ اگر مدد نہیں ملی تو مذہب پر سے اس کا بھروسہ اٹھ جائے گا اور وہ مذہب تبدیل کر لے گی۔ یہ کیسا مذہب ہے کہ تین بار شوہر طلاق کہہ دے اور اس کو گھر سے نکال دیا جائے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اب پی ایم مودی اور سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سے مدد مانگے گی۔

بتا دیں کہ جھانسی کے سيپري تھانہ علاقے کے آواس-وکاس کی رہنے والی ممتاز بیگم کی شادی 21 دسمبر 2003 کو مقامی رہائشی وارث الزماں کے ساتھ ہوئی تھی۔ عورت کے مطابق شادی کے ٹھیک بعد وہ حاملہ ہوئی۔ اس دوران ہی شوہر اور سسرال والوں نے کہنا شروع کر دیا کہ انہیں بیٹا چاہئے، لیکن دسمبر 2004 میں اس کی بیٹی ہوئی۔ اس کے بعد شوہر اور دیگر سسراليوں نے ہراساں کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ میکے سے پیدا ہوئی بیٹی کی شادی کے لئے پانچ لاکھ روپے لاؤ۔ مزید ظلم و ستم ہونے پر میکے والوں نے ایک پلاٹ عورت کے نام کر دیا۔ میکے فریق نے کہا کہ جب لڑکی بڑی ہو جائے تو پلاٹ بیچ کر اس کی شادی کرا دی جائے۔ اس کے بعد کچھ وقت کے لئے سسرال والے پرسکون ہو گئے۔ خاتون نے اسی درمیان ایک بیٹے اور اس کے بعد دوبارہ بیٹی کو جنم دیا۔

بیٹی پیدا ہونے پر تین طلاق دے کر گھر سے نکالا، متاثرہ نے کہا اپنا لوں گی ہندو مذہب

رو رو کر انصاف مانگتی تین طلاق متاثرہ ممتاز

ممتاز کے مطابق اس کے بعد پھر اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا گیا۔ سسرال والے اکثر مارپیٹ کرنے لگے۔ خاتون نے بتایا کہ کچھ دن پہلے اسے مار پیٹ کر ایک ساتھ تین طلاق کہتے ہوئے گھر سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد اسے تین طلاق کا نوٹس بھیج دیا۔ اس نے شوہر سے رابطہ کیا لیکن اس نے ایک نہیں سنی۔ اس کے بعد اس نے معاشرے کے ٹھیکیداروں سے انصاف کی فریاد کی لیکن ان لوگوں نے بھی ممتاز کی مدد نہیں کی۔ پریشان ہوکر خاتون نے شرعی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے وہاں بھی انصاف نہیں ملا تو بھری عدالت میں ممتاز رو پڑی۔

آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ سے منسلک دارالقضا شرعی عدالت کے مفتی صدیقی نقوی نے کہا کہ طلاق شوہر کا حق ہے۔ اگر عورت کو اس نے طلاق دے دی ہے تو اسے مانا جائے گا۔ اگرچہ طلاق کا طریقہ غلط ہے، لیکن طلاق تو ہو ہی گیا۔ شریعت قاضی نے کہا کہ اگر عورت مذہب تبدیل کر لیتی ہے تو یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔ شرعی عدالت کے پاس کوئی پولیس پاور نہیں ہے جسے وہ استعمال کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سے طلاق دیا گیا وہ غلط ہے۔ لوگ اس اسلامی قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے مذہب کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ان سب باتوں کے درمیان وہ مدد کی بات پر خاموش ہو گئے۔

شرعی عدالت کے جنرل سکریٹری مفتی عمران ندوی نے کہا کہ ہم شوہر کا معاشرے سے بائیکاٹ كرائیں گے، وہیں عدالت کی یہ باتیں سن کرعورت پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ خاتون نے کہا کہ اگر اسے مدد نہیں ملی تو مذہب پر سے اس کا یقین اٹھ جائے گا۔ خاتون نے کہا کہ اس کے بچے ہیں۔ بچوں کو لے کر وہ کہاں جائے گی۔ اس کے پاس کھانے کو نہیں ہے۔ وہ پی ایم مودی اور سی ایم یوگی کے پاس مدد کے لئے جائے گی۔ وہ ہندو مذہب اپنا لے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز