ہندوستان کا چین کو دوٹوک جواب ، شمال مشرقی میں کسی بھی صورت میں ترقیاتی کام نہيں ہوگا بند

Jun 04, 2017 12:44 PM IST | Updated on: Jun 04, 2017 12:44 PM IST

نئی دہلی : اروناچل پردیش میں ڈھانچہ جاتی سہولیات کی تعمیر پر چین کے اعتراضات کے درمیان شمال مشرقی امور اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتندر سنگھ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ شمال مشرق میں چاہے جو بھی حالات ہوں کسی بھی طرح کی ترقی کے کام میں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یو این آئي سے انٹرویو میں کہاکہ'سکیورٹی کا ماحول چاہے جو بھی جو سرحدی علاقوں سمیت شمال مشرق میں ترقیاتی سرگرمیاں بند ہونے والی نہیں ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت شمال مشرقی خطے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس کے لئے فنڈ کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اسی کے پیش نظر شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت کا بجٹ 55000 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ ہم علاقے میں تیزی سے کام کر رہے ہیں اور پروجیکٹ پہلے کے مقابلے تیز رفتاری سے مکمل ہورہے ہیں۔

ہندوستان کا چین کو دوٹوک جواب ، شمال مشرقی میں کسی بھی صورت میں ترقیاتی کام نہيں ہوگا بند

واضح رہے کہ اروناچل پردیش کو آسام سے جوڑنے والے ملک کے سب سے طویل ڈھولا -ساديا برج کا وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے 26 مئی کو افتتاح کئے جانے پر چین نے اپنی سر حد سے متصل ریاست میں بنیادی ڈھانچہ کی سہولیات کی تعمیر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کو اس معاملے میں تحمل برقرار رکھنا چاہیے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لئےسر حدی تنازعہ کے تصفیے تک ہندوستان کو تحمل برتنا چاہئے۔ چین تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کےگزشتہ اپریل میں اروناچل پردیش کے دورے پر بھی اعتراض کرچکا ہے۔ وہ اس ریاست کے بڑے حصے پر اپنا دعوی کرتا ہے ۔ چین کے اعتراضات سے متعلق سوالوں پر براہ راست تبصرہ کرنے سے بچتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزارت خارجہ سفارتی طور پر اس پر توجہ دے رہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز