جموں وکشمیر اسمبلی کے جی ایس ٹی پر خصوصی اجلاس کا ہنگامہ خیز آغاز

Jul 04, 2017 08:17 PM IST | Updated on: Jul 04, 2017 08:17 PM IST

سری نگر ۔ جموں وکشمیر میں اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ پر بحث کے لئے بلائے گئے اسمبلی کے چار روزہ خصوصی اجلاس کا منگل کو یہاں توقع کے مطابق ہنگامہ خیز آغاز ہوا۔ اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں دن بھر اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی ، حزب اقتدار اور اپوزیشن اراکین کے مابین شدید قسم کی لفظی جنگ اور میڈیا اہلکاروں کا وقتی بائیکاٹ دیکھنے میں آیا۔ تاہم ریاست میں جی ایس ٹی کے نفاذ پر بحث کے لئے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو قانون ساز اسمبلی اور وزیر برائے تعمیرات عامہ نعیم اختر نے قانون ساز کونسل میں قراردادیں پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے جن پر بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

منگل کی صبح اسمبلی کے خصوصی اجلاس کی کاروائی جوں ہی شروع ہونے والی تھی تو تمام میڈیا اہلکاروں نے اسمبلی کی کاروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دونوں ایوانوں سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ میڈیا اہلکاروں نے بائیکاٹ کا راستہ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کہ ’میڈیا اہلکار اپنے کیمرے اور موبائیل فون اپنے ساتھ ایوان میں نہیں لے جاسکتے ہیں‘ کے خلاف اختیار کیا۔ تاہم میڈیا اہلکاروں کے واک آوٹ کے بعد اپوزیشن اراکین بالخصوص نیشنل کانفرنس نے ریاست کی پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کی اور اسپیکر سے ناراضگی کے ساتھ کہنے لگے کہ پریس کی موجودگی کے بغیر اجلاس کی کاروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

جموں وکشمیر اسمبلی کے جی ایس ٹی پر خصوصی اجلاس کا ہنگامہ خیز آغاز

میڈیا پر قدغن عائد کرنے کے خلاف اپوزیشن اراکین کے شدید احتجاج کے بعد قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا نے ایوان کی کاروائی کو آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کردیا۔ میڈیا کے بائیکاٹ اور اپوزیشن کے شدید احتجاج کے بعد حکومت نے اپنا سابقہ فیصلہ واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اب اپنے کیمرے اور موبائیل فون پریس گیلری میں ساتھ لے جا کر اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری اور وزیر اطلاعات چودھری ذوالفقار علی نے ایوان کے باہر میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے انہیں حکومتی فیصلے سے آگاہ کیا۔ تاہم میڈیا اہلکاروں نے یہ کہتے ہوئے پریس گیلری میں واپس جانے سے انکار کیا کہ ’اسمبلی اسپیکر انہیں اس بات کا یقین دلائیں کہ اس طرح کی قدغن مستقبل میں عائد نہیں کی جائے گی‘۔

اسمبلی اسپیکر کویندر گپتا نے بعدازاں قدغن کے لئے معذرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کاروائی آئندہ دہرائی نہیں جائے گی۔ اسپیکر کی یقین دہانی کے بعد میڈیا اہلکاروں نے بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا اور کاروائی کو رپورٹ کرنے کے لئے پریس گیلری میں داخل ہوئے ۔ تاہم میڈیا کی واپسی کے بعد اسپیکر کویندر گپتا کو قانون ساز اسمبلی کی کاروائی اس وقت ایک بار پھر معطل کرنا پڑی جب آزاد ممبر اسمبلی و عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر شیخ عبدالرشید کے ایک تبصرے پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی برپا ہوگئی۔ انجینئر رشید نے ایوان میں موجود بی جے پی اراکین سے مخاطب ہوکر کہا ’آپ کو شاما پرساد مکھرجی (جن سنگھ کے بانی) کو نہیں بھولنا چاہیے‘۔ اس پر بی جے پی اراکین کو شدید غصہ آیا اور انہوں نے انجینئر رشید کے خلاف جم کر نعرے بازی شروع کی۔ جن سنگھ کے بانی مکھرجی جموں وکشمیر کا وفاق کے ساتھ مکمل انضمام کا مطالبہ کررہے تھے اور 23 جون 1953 کو دوران حراست فوت ہوگئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز