جموں و کشمیر : علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی بدستور نظر بند، نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی محروم

Dec 01, 2017 10:16 PM IST | Updated on: Dec 01, 2017 10:16 PM IST

سری نگر : وادی کشمیر میں بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی بدستور اپنے گھر میں نظربند ہیں اور انہیں آج بھی نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا گیا۔ حریت کانفرنس نے حکومتی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سرزمین بے آئین میں قانون نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے اور یہاں عملاً فوج اور پولیس کا قانون چلتا ہے جنہوں نے اس سرزمین پر ایسے قانون نافذ کردئے ہیں جو کسی بھی قانونی کتاب میں درج ہی نہیں ہیں۔

حریت کانفرنس نے کہا کہ جو لوگوں کو نماز اور دیگر اہم دینی فرائض ادا کرنے سے زبردستی روکتے ہیں اور ان کے حق آزادی کو بغیر کسی جواز کے چھینتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ حریت کانفرنس نے تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی، بی جے پی سرکار نے ریاست کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کردیا ہے اور جب سے محبوبہ مفتی نے اقتدار سنبھالا ہے گرفتاریوں، چھاپوں اور تلاشی کارروائیوں میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔

جموں و کشمیر : علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی بدستور نظر بند، نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی محروم

علاحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی: فائل فوٹو

پی ڈی پی نے اپنے الیکشن مینی فیسٹو میں سیاسی آزادیوں اور کشادگی کے وعدے کئے تھے، لیکن اس کے برعکس انہوں نے جیلوں کے دروازے کھول دیے اور لوگوں کو بغیر کسی آئینی اور قانونی جواز کے حراست میں لینے کا سلسلہ دراز تر ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی قیدیوں کو غیر قانونی قانون پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور جب ان کا پی ایس اے عدالت کی جانب سے کواش ہوتا ہے تو انہیں دوبارہ اسی غیرقانونی قانون کے تحت نظربند کیا جاتا ہے۔ اس طرح ان کی رہائی کو قریب قریب ناممکن بنایا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیاسی قیدی جیسے عمر قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز