مسجد میں جانا بند کر دیا ہے' ، کشمیر میں ڈر میں جی رہے ہیں سکیورٹی فورسز کے اہل خانہ'

لون کو رہا کرنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد دہشت گرد اسی ضلع میں 20 میل کی دوری پر سی آع پی ایف کے جوان کے گھر میں گھسے۔ پلوامہ کے نرینا گاؤں کی مسجد سے رات کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔ نصیر اھمد اور ان کی اہلیہ نماز پڑھ رہے تھے۔

Aug 10, 2018 07:30 AM IST | Updated on: Aug 10, 2018 07:46 AM IST

۔27 جولائی کو ایک اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او) مدثر احمد لون کے گھر پر اپنی بائک کی رپیئرنگ کر رہے تھے۔ تبھی تین دہشت گرد وہاں پہنچے اور ان کا اغوا کر لیا۔ اگلی صبح جب صحافی جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں لون کے گھر پہنچے تو ان کی دکھی  ماں نے اغوا کرنے والوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیتا "اپنی نوکری سے استعفی دینے کییلئے گھر آیا تھا اور وہ جمع کی نماز کے بعد مسجد سے اس بات کا اعلان کر ے گا"۔

لون کی والدہ حریف بیگم ان کی تین بیٹیوں اور باقی  رشتہ داروں سے گھری ہوئی تھی۔ پورا کنبہ غم میں ڈوبا ہوا تھا ۔ اپنےبیٹے کی زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے ان کی ماں نے کہا کہ چار بچوں میں لون ان کا اکیلا بیٹا ہے۔ لون کی ماں کا یہ ویڈیو جلد ہی وائرل ہو گیا۔ اسی درمیان اغوا کرنے والوں نے سوشل میڈیا پر لون کی والدہ کی تصویر جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ابھی لون کا قتل نہیں کیا ہے۔ فوج نے انہیں ٹریس کرنے کیلئے ایک آپریشن لانچ کیا۔

مسجد میں جانا بند کر دیا ہے' ، کشمیر میں ڈر میں جی رہے ہیں سکیورٹی فورسز کے اہل خانہ'

کشمیر میں سکیورٹی اہلکار کا اغوا کرنے کی شروعات گزشتہ مارچ سے ہوا۔ دہشت گردوں اس ریکھا کو پار کر دیا جسے اس سے پہلے کبھی پار نہیں کیا گیا تھا۔ سکیورٹی اہلکار  کےگھر کے اندر پہلی مرتہ جنگ اور بدلے کیلئے قتل کا سلسلہ شروع ہوا۔ چھٹی پر گئے سکیورٹی فورسز کااغوا اور ان کا قتل کا ٹرینڈ بڑھنے لگا۔

اغوا کئے گئے جوانوں کے زندہ لوٹنے کے امکان نہ کے برابر ہوتے ہیں۔ تقریبا ہر کیس میں اغوا کئے گئے سکیورٹی اہلکار کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ساری امیدوں کے خلاف حریف بیگم کی اپیل نے کام کیا اور لون کو دہشت گردوں نے ایک دن کے بعد 28 جولئی کو رہا کر دیا۔ اس پریشان کرنے والے تجربات کو بھلانے کی کوشش میں لگے لون اور ان کے کنبہ والوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح ہو کہ لون کو رہا کرنے کے  کچھ ہی گھنٹے بعد دہشت گرد  اسی ضلع میں 20 میل کی دوری پر سی آع پی ایف کے جوان کے گھر میں گھسے۔ پلوامہ کے نرینا گاؤں کی مسجد سے رات کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔ نصیر اھمد اور ان کی اہلیہ نماز پڑھ رہے تھے۔

 

ری کمنڈیڈ اسٹوریز