جموں : گائے کا کنکال ملنے پر روہنگیا پناہ گزینوں کو 11 دنوں تک حراست میں رکھا گیا ، بے رحمی سے پٹائی

Dec 04, 2017 08:29 PM IST | Updated on: Dec 04, 2017 08:29 PM IST

جموں : جموں و کشمیر میں مقیم مظلوم مجبور روہنگیا مسلمانوں پر پولیس کے ذریعہ تشدد کے معاملہ کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جموں میں روہنگیا مسلمانوں کے ایک کیمپ کے ساتھ سے مبینہ طور پر ایک گائے کا کنکال پایا گیا ، جس کے بعد پولیس نے تھانہ لے جاکر دو خواتین سمیت 12 روہنگیا پناہ گزینوں کی بے رحمی سے پٹائی کی ۔ خیال رہے کہ میانمار میں بدھ شدت پسندوں اورا فواج کے ظلم و بربریت کا شکار ہونے کے بعد نقل مکانی کرکے آئے سینکڑوں روہنگیا مسلمان جموں میں پناہ گزیں کیمپوں میں زندگی گزاررہے ہیں۔

ایک نابالغ روہنگیا پناہ گزین کے مطابق 10 ستمبر کو جموں کے سرحدی علاقہ میں واقع ایک تھانہ میں پولیس نے روہنگیا مسلمانوں کو ایک قطار میں کھڑا کرکے ان کی لاٹھی ڈنڈوں سے جم کر پٹائی کی ۔ پولیس ان نے صرف ایک ہی سوال پوچھ رہی تھی کہ گائے کو کس نے مارا ہے۔

جموں : گائے کا کنکال ملنے پر روہنگیا پناہ گزینوں کو 11 دنوں تک حراست میں رکھا گیا ، بے رحمی سے پٹائی

گیارہ دنوں تک حراست میں رکھا گیا

جموں کے جنوبی علاقہ کے چانی ہمت تھانہ میں پولیس نے دودھ پلانے والی دو خواتین سمیت 12 روہنگیا پناہ گزینوں کو 11 دنوں تک حراست میں رکھا اور ان کی شدید پٹائی بھی کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے کیمپ کے پاس ایک خالی پڑی زمین میں گائے کا کنکال پایا گیا تھا ، جس کے بعد بی جے پی کے لوگوں نے گئو کشی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور کارروائی کی مانگ کی تھی۔

بچے چیختے چلاتے رہے، مگر پولیس کو نہیں آیا رحم

سولہ سالہ سید نور کے مطابق تھانہ میں بچے چیختے چلاتے رہے ، مگر پولیس کو رحم نہیں آیا ۔ ان بچوں میں ایک چار دن کا نوزائیدہ بچہ بھی شامل تھا ۔ سید نور نے مزید بتایا کہ پولیس نے اس کو بھی آٹھ دنوں تک حراست میں رکھا ۔

فرش پر لٹاکر ہاتھ ، پیر اور پیٹھ پر لاٹھی اور بیلٹ سے مارا گیا

ایک اور پناہ گزیں 29 سالہ حامد حسین نے پولیس حراست میں اپنے دوسرے دن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ہم چیخ چیخ کر پولیس کو بتا رہے تھے کہ ہم نے یہ کام نہیں کیا ، لیکن وہ ہمیں 15 منٹ تک بے رحمی سے پیٹتے رہے۔ حسین نے مزید بتایا کہ پولیس نے ہمیں فرش پر لٹا کر ہمارے ہاتھ ، پیر اور پیٹھ پر لاٹھی اور بیلٹ سے مارا ، انہوں نے ہمیں بہت ستایا ۔

جموں میں کیموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزیں۔ فائل فوٹو جموں میں کیموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزیں۔ فائل فوٹو

تھانہ میں 264 گھنٹوں تک رکھا گیا ، مگر عدالت میں نہیں کیا گیا پیش

حراست میں لئے گئے پناہ گزینوں کے مطابق ان کو 96 سے 264 گھنٹے کی میعاد کے دوران چھوڑا گیا اور انہیں کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ سی آر پی سی کی دفعات کے مطابق پولیس کسی بھی شخص کو 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست میں نہیں رکھ سکتی ہے ۔ اس میعاد کے دوران پولیس کو اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا۔

ہندو بتانے پر پڑوسیوں کو چھوڑ دیا گیا

روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کے نزدیک رہنے والی ایک خاتون نے بھی پناہ گزینوں کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کرکے لے جانے کی بات کہی ہے۔ پڑوس میں رہنے والی ایک 35 سالہ خاتون کے مطابق پولیس روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے لے گئی تھی اور ان کو بھی تھانہ بلایا گیا تھا، لیکن جب انہوں نے خود کو ہندو بتایا تو پولیس نے ان کو چھوڑ دیا۔

پولیس نے حراست میں لینے کی تردید کی

ادھر چانی ہمت تھانہ کے انچار ساجد میر نے حراست میں لینے کی بات کو یکسر خارج کردیا ہے۔ ساجد میر کا کہنا ہے کہ ہم نے کئی لوگوں کو پوچھ تاچھ کیلئے تھانہ بلایا تھا ، لیکن ان کو بعد میں چھوڑ دیا گیا اور ان میں سے کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز