جموں و کشمیر : امرناتھ یاتریوں پر حملے کی تحقیقات کے لئے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

Jul 14, 2017 09:16 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 09:16 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں پر ہوئے ہلاکت خیز حملے کی تحقیقات کے لئے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان کے مطابق کہ ایک چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو یاتریوں پر ہوئے حملے کی تحقیقات کرے گی۔ انہوں نے بتایا ’تشکیل دی گئی ٹیم تمام پہلوؤں بشمول جنگجو وہاں (قومی شاہراہ تک) کیسے پہنچے؟ انہیں ٹرانسپورٹ سہولیت کس نے فراہم کی؟ اُن کے پاس ہتھیار کہاں سے آئے؟ اُن کو فرار ہونے میں کس نے مدد کی اور کیا سیکورٹی میں کسی قسم کی کوتائی ہوئی ہے، کی تحقیقات کرے گی‘۔

چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل جنوبی کشمیر ایس پی پانی کریں گے۔ ٹیم کے دیگر اراکین میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اننت ناگ الطاف احمد خان، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رینک کا ایک افسر اور دیگر تین پولیس افسران شامل ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی کی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے۔

جموں و کشمیر : امرناتھ یاتریوں پر حملے کی تحقیقات کے لئے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

وادی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر کل دہشت گردوں نے بڑا حملہ کیا تھا جس میں 7 عقیدت مندوں کی موت ہوگئی اور 19 زخمی ہو گئے ہیں۔، تصویر، رائٹرز

کراس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 6 یاتریوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ آئی جی پی منیر خان کا کہنا ہے کہ یاتریوں پر حملہ جنگجو تنظیم لشکر طیبہ نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ پاکستانی لشکر جنگجو اسماعیل کے کہنے پر انجام دیا گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یاتریوں کی گاڑی پر حملے میں پانچ سے چھ جنگجو ملوث ہیں۔ تاہم جنگجو تنظیم (لشکر طیبہ) نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس امرناتھ یاترا کے بال تل بیس کیمپ سے جموں کی طرف جارہی تھی۔

پولیس نے ایک بیان میں حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا ’جنگجوؤں نے ابتدائی طور پر بٹنگو میں پولیس کے ایک بلٹ پروف بنکر پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ ابتدائی فائرنگ میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اس کے بعد جنگجوؤں نے کھنہ بل میں ایک پولیس ناکے پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔ سیاحوں (یاتریوں) کی ایک بس فائرنگ کی زد میں آگئی اور نتیجتاً 18 سیاح زخمی ہوگئے۔ ان میں سے 7 سیاح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

فائرنگ کی زد میں آنے والی بس بال تل سے جموں جارہی تھی اور قافلے میں شامل نہیں تھی‘۔ وادی میں تمام لوگوں بشمول علیحدگی پسند قائدین نے یاتریوں پر ہوئے حملے کی بھرپور مذمت کی۔ مختلف سول سوسائٹی گروپوں نے سری نگر کی پرتاب پارک میں جمع ہوکر یاتریوں کی ہلاکت کے خلاف دھرنا دیکر احتجاج کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز