جموں وکشمیر: علاحدی پسند لیڈر یاسین ملک گرفتار ، سینٹرل جیل منتقل ، میرواعظ گھر میں نظر بند

Sep 07, 2017 08:25 PM IST | Updated on: Sep 07, 2017 08:25 PM IST

سری نگر: کشمیری علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے 9 ستمبر کو نئی دہلی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ہیڈکوارٹرس پر احتجاجی دھرنا دینے اور گرفتاری پیش کرنے کے اعلان کے ایک روز بعد ریاستی پولیس نے حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو خانہ نظربند جبکہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو اپنے دفتر سے گرفتار کرنے کے فوراً بعد سینٹرل جیل سری نگر منتقل کیا۔ حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کو بدستور اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے۔

میرواعظ اور یاسین ملک نے بدھ کے روز سری نگر کی تاریخی ومرکزی جامع مسجد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم نے 9 ستمبر کو نئی دہلی جانے اور وہاں احتجاج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چونکہ این آئی اے کا بنیادی ہدف مزاحمتی قیادت ہے، اس لئے ہم این آئی اے ہیڈکوارٹرس پر گرفتاری پیش کریں گے‘۔ حریت کانفرنس (ع) کے ایک ترجمان نے میرواعظ کی ایک بار پھر خانہ نظر بندی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکی بار بار کی نظر بندی کو سیاسی انتقام گیری اور حکمرانوں کے شکست سے تعبیر کیا ہے۔

جموں وکشمیر: علاحدی پسند لیڈر یاسین ملک گرفتار ، سینٹرل جیل منتقل ، میرواعظ گھر میں نظر بند

مسٹر میرواعظ نے مزید کہا کہ میرواعظ کی نظر بندی سے موصوف کی پر امن دینی،سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا مقصد قیادت اور عوام کو رواں جدوجہد آزادی سے دور رکھنا اور ان کے عزائم کو توڑنا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ آزمودہ حربے ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے۔ انہوں جے کے ایل ایف چیئرمین یاسین ملک کی گرفتاری اور سینٹرل جیل منتقلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کی بوکھلاہٹ قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے استعماری حربوں سے مبنی برحق جدوجہدمیں مصروف قیادت کو اپنے موقف سے ہرگزہٹایا نہیں جاسکتا۔

دریں اثنا فرنٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے جمعرات کو آبی گذر سری نگر میں واقع لبریشن فرنٹ کے دفتر کا گھیراؤ لیا اوربعدازاں مسٹر ملک کی گرفتاری عمل میں لائی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز