رامجس تنازعہ معاملہ: کیجریوال کی انل بیجل سے ملاقات، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ

Feb 28, 2017 03:39 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 05:42 PM IST

نئی دہلی۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے ملاقات کرکے رامجس کالج میں تشدد کرنے اور ایک طالبہ گرمهر کورکو دھمکی دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی درخواست کی۔ لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کے بعد مسٹر کیجریوال نے صحافیوں سے کہا کہ مسٹر بیجل نے انہیں یقین دلایا ہےکہ قصورواروں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلی نے یونیورسٹی میں کشیدہ ماحول کے لئے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی زیادتیوں کی وجہ سے ہی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کے نام پر یہ لوگ سرعام اپنی من مانی کرتے ہیں۔ خود ہی نعرے لگواتے ہیں اور پھر خود ہی وہاں احتجاج کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ کرن ریجیجو کے بیان پر مسٹر کیجریوال نے کہا کہ انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ کسی ایک خاص تنظیم یا کمیونٹی کے وزیر نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے وزیر ہیں ایسے میں سب کی سلامتی کا خیال رکھنا ان کی ذمہ داری ہےجیسا کہ دہلی کا وزیر اعلی رہتے ہوئے پورے دہلی شہریوں کے مفادات کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔

اس سے پہلے آج دن میں مسٹر کیجریوال نے ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ وہ رامجس معاملے کے سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر سے ملنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کے ساتھ ہی ایک شہید فوجی کی بیٹی گرمهر کور کو سوشل میڈیا پر مل رہی دھمکیوں کے بارے میں بھی گورنر سے بات کریں گے۔ گرمهر کور نے الزام ​​لگایا ہے کہ اے بی وی پی کی مخالفت کرنے والے طالب علموں کی حمایت کرنے کی وجہ سے اسے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اسے آبروریزی تک کی دھمکی دی گئی ہے۔ مسٹر کیجریوال اور مسٹر بیجل کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب رامجس کالج تنازعہ کے سلسلے میں آج اےآئی ایس اے کی قیادت میں اے بی وی پی کے خلاف دہلی یونیورسٹی کے شمالی کیمپس میں مختلف کالجوں کے طالب علموں اور کچھ اساتذہ نے احتجاجی مارچ نکالا۔ اس میں جے این یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم بھی شامل تھے۔

رامجس تنازعہ معاملہ: کیجریوال کی انل بیجل سے ملاقات، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ

قبل ازیں،  اس واقعہ کے خلاف احتجاج میں جہاں اے بی وی پی کے کارکنوں نے کل ترنگا مارچ نکالا تھا، وہیں دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی لیفٹ حامی طلبہ تنظیموں نے نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے ساتھ مل کر آج اے بی وی پی کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا۔ اس میں دونوں یونیورسٹیوں کے متعدد اساتذہ بھی شامل ہوئے۔ این ایس یو آئی کے کارکن آرٹ فیکلٹی کے باہر بھوک ہڑتال پر بھی بیٹھ گئے۔دریں اثناء، مرانڈا ہاؤس کی طالبات نے خالصہ کالج کے باہر اے بی وی پی کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا اور جم کر نعرے بازی کی۔ طالبات کا کہنا تھا کہ اے بی وی پی کی زیادتیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہیں احاطے میں پاک ماحول چاہئے۔ طالب علموں کے درمیان کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پورے نارتھ کیمپس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ فی الحال طلبہ کا مظاہرہ پرامن طورپر چل رہا ہے اور کسی طرح کے تشدد یا گڑبڑی کی كوئي خبر نہیں ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ کرن ریجیجو نے بائیں بازو کے لیڈروں پر طالب علموں کو بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ہند-چین جنگ کے وقت بھی ان لوگوں نے چین کی حمایت کی تھی۔ یہ لوگ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ جب بھی ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں، یہ خوشیاں مناتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز