بجٹ غلط آنکڑوں پر مبنی ہوگا، جی ڈی پی منفی پانچ اعشاریہ تک پہنچنے کا خدشہ : ماہر اقتصادیات ارون کمار

Jan 22, 2017 03:20 PM IST | Updated on: Jan 22, 2017 03:21 PM IST

نئی دہلی: ممتاز ماہر اقتصادیات وجے این یو کے شعبہ سنٹر فار اکانامک اینڈ پلاننگ کے سابق صدر پروفیسر ارون کمار نے جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں ’’متوقع بجٹ سے وابستہ امیدیں و نوٹ بندی کے اثرات ‘‘کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی نے ملکی معیشت کو نہ صرف طویل مدتی نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس سے مجموعی گھریلو مصنوعات( جی ڈی پی)بھی منفی سمت میں گامزن ہو گا اور ملک میں مندی کا دور شروع ہوجائے گا۔

نوٹ بندی کے لئے حکومت نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ نہ صرف بالکل غلط تھا بلکہ دنیا میں اس سے قبل ایسا طرز کہیں بھی اختیار نہیں کیا گیا ۔بیک وقت 86فیصد نوٹوں کی تنسیخ ناعاقبت اندیشانہ فیصلہ ہے جس پر پوری دنیا شسدر ہے۔ایسا نہیں ہے کہ نوٹ بندی کوئی پہلی مرتبہ ہوئی اس سے قبل بھی ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں بڑے نوٹوں کی تنسیخ عمل میں آئی ہے ، لیکن اس سے قبل حکومتوں نے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے تھے اور کئی سال تک اس کی تیاریاں کی گئی تھیں ۔

بجٹ غلط آنکڑوں پر مبنی ہوگا، جی ڈی پی منفی پانچ اعشاریہ تک پہنچنے کا خدشہ : ماہر اقتصادیات ارون کمار

پروفیسر موصوف نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ ابھی حالات مزید ابتر ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کو بحران کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اورعوام مجبورمحض ہیں۔کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔تجارت میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ خریدو فروخت میں کمی کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔انہوں نے حکومتی دعوے کو خارج کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ جی ڈی پی منفی پانچ اعشاریہ سے منفی سات اعشاریہ(- 5.0 سے-7.0)تک جا پہنچے گا جس کے اثرات ناقابل بیان ہیں۔

انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ ٹیکس چوری روکنے،دھشت گردانہ فنڈنگ پر نکیل کسنے اور کالی کمائی پر قدغن لگانے نیزنقلی نوٹوں کو ختم کرنے کے لئے نوٹ بندی کی کیا ضرورت تھی؟اس کے لئے سسٹم کو درست کیا جانا چاہئے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ نقد(کیش)کا مطلب بلیک منی قطعی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے مقاصد میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے اور تقریبا97فیصد پیسہ سسٹم میں واپس آچکا ہے۔

ماہر اقتصادیات پروفیسر کمارنے کہا کہ اس مرتبہ بجٹ کی قیاس آرائی انتہائی مشکل ہے کیوں کہ حکومت غلط بیانی سے کام لے گی۔ پورا بجٹ غلط آنکڑوں پر مبنی ہوگا۔ جو وعدے کئے جائیں گے ان کا ایفا ناممکن ہے کیوں کہ حکومت کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے ، مزید یہ کہ ٹیکس کی حصولیابی بھی اس مالی برس کافی کم ہوجائے گی اور جب حکومت ان وعدوں کو پورا نہیں کرپائے گی تو غیرملکی ایجنسیاں حکومت کی ریٹنگ میں تخفیف کردیں گی جس کا اثر برسوں پر محیط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے آگے کنواں پیچھے کھائی کے حالات ہیں۔

پروفیسر ارون کمار نے ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ منظم سیکٹر سرمایے کی کمی کی وجہ سے کافی پچھڑ گیا ہے جبکہ غیر منظم سیکٹر ملک کی معیشیت کی ریڑھ ہے اور اس حکومت نے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔مینوفیکچرنگ کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ مزدوروں اور کاریگروں کے ہاتھ سے کام جاتا رہا جس کے نتیجے میں پروڈکشن پر غیر معمولی اثر پڑا اور بازار میں مند ی آگئی اور اس مندی سے نمٹنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔جن کے پاس بڑی رقم موجود ہے انہوں نے اپنی رقم کو بازار میں لگانے کا خطرہ نہیں اٹھایاجس کی وجہ سے تجارت کو بڑا نقصان برداشت کرناپڑ رہا ہے۔

ماہر معاشیات پروفیسر موصوف نے کہا کہ اس مرتبہ ربیع کی کاشت بھی کافی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ آربی آئی کو بھی بڑا خسارہ ہوا ہے جس کے اثرات بینک پر پڑیں گے۔نان پرفامننگ ایسیٹ (این پی اے) میں بھی اضافہ ہوگا اوربینکوں کے پاس بڑی رقم نہیںآ رہی ہے جس کے اثرات لون و دیگر قرضوں پر پڑیں گے اور کوئی نیا کاروبار شروع کرنا یا تجارت میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہوگا جس کے بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی اعتبار سے ملک کی معیشت کو اس حکومت نے بالکل تباہ کر دیا ہے اور اسے سنبھلنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔پروگرام میں نائب امیر جماعت جناب نصرت علی، سکریٹری جنرل جناب محمد سلیم انجینئر سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز