شعبہ عربی و فارسی الہ آباد یونیورسٹی کی انوکھی پہل ، سنسکرت ، عربی اور فارسی کے طلبہ کا مشترکہ سیمینار

May 17, 2017 10:43 PM IST | Updated on: May 17, 2017 10:43 PM IST

الہ آباد : ہندوستان کے قدیم ترین زبان سنسکرت کا عربی اور فارسی زبان کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے ۔ ماضی میں سنسکرت زبان میں لکھی گئی درجنوں کتابوں کا ترجمہ عربی اور فارسی زبان میں کیا گیا ، لیکن نئی نسل ان دونوں زبانوں کے قدیم رشتوں کے تعلق سے بہت کم واقف ہے ۔ عربی، فارسی اورسنسکرت زبانوں کے ماہرین ایک بار پھر دونوں زبانوں کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ عربی و فارسی نے ایک انوکھی پہل کی ہے ۔ شعبہ عربی و فارسی نے سنسکرت اور عربی فارسی زبان کے قدیم رشتوں کی جڑوں کو ایک بار پھر تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ عربی ، فارسی اور سنسکرت زبانوں کے درمیان تاریخی رشتوں کے موضوع پر سیمینار میں دونوں زبانوں کے ماہرین نے شرکت کی ۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں اسلام کی آمد سے قبل ہی دونوں زبانوں کے درمیان گہرے رشتے موجود تھے ۔ سیمینار میں سنسکرت کی مشہور کتاب ’ پنچ تنتر ‘ کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پنچ تنتر کا ترجمہ کئی صدیوں پہلے عربی اور فارسی میں کیا جا چکا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ نسل کو سنسکرت اور عربی فارسی کے قدیم لسانی رشتوں سے واقف کرانا بہت ضروری ہے ۔

شعبہ عربی و فارسی الہ آباد یونیورسٹی کی انوکھی پہل ، سنسکرت ، عربی اور فارسی کے طلبہ کا مشترکہ سیمینار

سیمینار میں عربی اور فارسی کے ریسرچ اسکالرس کے علاوہ بڑی تعداد میں سنسکرت کے طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب سنسکرت اور عربی فارسی کےاساتذہ اور طلبہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آئے ۔ سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کے مشترکہ پروگرام کرانے سے دونوں زبانوں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں کم ہوں گی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز