معروف صحافی خورشید عالم ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں بٹلہ ہاؤس قبرستان میں سپرد خاک

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ خورشید صاحب میں سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ فکری اور تعمیری صحافت کو بڑی دلیری سے پیش کرتے تھے اور متعدد نازک سے نازک ایشوز کو بڑی خوش اسلوبی سے اٹھاتے تھے۔

Aug 05, 2017 05:29 PM IST | Updated on: Aug 05, 2017 05:29 PM IST

نئی دہلی۔  معروف صحافی اور کالم نویس خورشید عالم کا سال بھر کی طویل علالت کے بعد آج رات  12.30 بجے انتقال ہو گیا۔ انھوں نے آخری سانس دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ ہاسپٹل میں لی۔ وہ 54 سال کے تھے۔ پسماندگان میں والد محمد شہاب الدین، رکن جماعت اسلامی ہند کانپور کے علاوہ اہلیہ، ایک بیٹی اوردو بیٹے ہیں۔ مرحوم کو ہزاروں سوگواروں کے درمیان ،ذاکر نگر جامع مسجد میں نماز جنازہ کے بعد بٹلہ ہاؤس قبرستان میں آج شام بعد نماز عصرسپرد خاک کیا گیا۔ مرحوم نے اپنا صحافتی سفر ماہنامہ افکارِ ملی سے تقریباً 25 سال قبل شروع کیا تھا۔ قومی آواز اور اخبار مشرق میں بھی خدمات انجام دیں۔مرحوم کو اردو کے ساتھ ہندی میں بھی برابر مقبولیت حاصل تھی۔ ہندی میں ان کی صحافت دینک جاگرن سے شروع ہوئی جس میں وہ اسلامی اور مسلم ایشوز پر آبجیکٹیو انداز میں لکھنے کیلئے کافی مشہور ہوئے۔ وہ دینک ہندوستان، امر اجالا اور ویر ارجن ودیگر علاقائی ہندی اخبارات سے بھی منسلک رہے۔ ویر ارجن و چند دیگر ہندی اخبارات میں ان کا کالم ’اردو اخباروں کا جائزہ‘ بہت مقبول رہا،جو بہت دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔

اس وقت خورشید صاحب انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اور آل انڈیا ملی کونسل کے میڈیا کو آرڈینٹر اور ماہنامہ آئی او ایس اردو خبر نامہ کے مدیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ خورشید صاحب کو متعدد صحافتی ایوارڈ و اعزازوں سے نوازا گیا۔ گزشتہ سال پریس کلب آف انڈیا نے انہیں اپنا ممبر بنایا تھا۔ ابھی تک ان کے تقریباً تین ہزار اردو، دوہزار ہندی مضامین، فیچر اور نیوز اسٹوریز شائع ہو چکی ہیں۔ معروضی وفنی صحافت خواہ وہ ہندی میں ہو یا اردو میں کو فروغ دینے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ نئی نسل کے اردو اور ہندی صحافیوں کا مجمع ہمیشہ ان کے ارد گرد رہ کر تربیت حاصل کرتا تھا۔ خورشید عالم کے انتقال پرملال پر اپنے تا ثرات کا اظہار کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی ہند نصرت علی نے کہاکہ یہ اردو اور ہندی صحافت میں تعمیری ومعروضی رخ دینے کیلئے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے اور نئی نسل کے صحافیوں کیلئے سبق فراہم کرتے رہیں گے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ خورشید عالم کے انتقال سے اردو اور ہندی دونوں صحافت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو ادا کرتے وقت بڑی بے باکی سے اپنی بات پیش کرتے تھے۔

معروف صحافی خورشید عالم ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں بٹلہ ہاؤس قبرستان میں سپرد خاک

سینئر صحافی وکالم نگار خورشید عالم کا رات ساڑھے بارہ بجے دہلی میں انتقال ہوگیا: فائل فوٹو۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ خورشید صاحب میں سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ فکری اور تعمیری صحافت کو بڑی دلیری سے پیش کرتے تھے اور متعدد نازک سے نازک ایشوز کو بڑی خوش اسلوبی سے اٹھاتے تھے۔ آئی او ایس چیئرمین اور آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے کہا کہ خورشید عالم نے اپنا پورا صحافتی کیریئر اسلامی، ملی اور کمزور طبقات کے کاز میں جوڑ دیا تھا اور اس ضمن میں وہ مختلف تنظیموں اور اداروں بالخصوص آئی اوایس اور ملی کونسل کے کاز کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہے۔ عیسائی فادر سولومن نے کہا کہ خورشید صاحب نے صرف اسلامی اور مسلم ایشوز ہی نہیں بلکہ اقلیتی کاز، جس میں عیسائیوں کے ایشوز شامل ہیں، کو منطقی انداز میں پیش کرنے میں بڑی اہم کوشش کی۔ یونائیٹڈ مسلم مورچہ کے جنرل سکریٹری اور مشاورت کے سکریٹری مولانا عبدالحمید نعمانی نے ان کے انتقال کو ملک وملت کے خسارے کے ساتھ اپنا ذاتی خسارہ بھی بتایا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز