سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعۃ الوداع کی نماز ادا کرنے کی نہیں دی گئی اجازت

Jun 23, 2017 05:24 PM IST | Updated on: Jun 23, 2017 05:24 PM IST

سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں جمعۃ الوداع کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں ڈوگرہ شاہی حکومت کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب تاریخی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع کی نمازپر قدغن عائد کی گئی۔ جامع مسجد میں ہرسال جمعتہ الوداع کے موقع پر کم از کم ایک لاکھ لوگ نماز ادا کرتے تھے۔ اگرچہ جنوبی ضلع پلوامہ کے کاکہ پورہ میں جمعرات کو سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ایک عام نوجوان کی ہلاکت کے خلاف علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے دی گئی احتجاج کی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے سری نگر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں گذشتہ شام کو ہی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم جامع مسجد کے باہر شب قدر کی رات کو پیش آنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈ آف پولیس محمد ایوب پنڈت کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد پائین شہر میں جمعہ کی صبح سخت ترین پابندیاں نافذ کی گئیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے پائین شہر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح پابندیاں نافذ کی گئیں۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ فوٹو جرنلسٹس کا ایک گروپ جو جمعہ کی صبح جامع مسجد کی عکس بندی کے لئے نوہٹہ جارہا تھا، کو سیکورٹی فورسز نے رانگر اسٹاپ سے ہی واپس بھیج دیا۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعۃ الوداع کی نماز ادا کرنے کی نہیں دی گئی اجازت

file photo

ایک سی آر پی ایف اہلکار نے فوٹوجرنلسٹس کو بتایا ’ہمیں یہاں سے کسی بھی شخص بشمول میڈیا اہلکاروں کو جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہ دینے کی سخت ہدایات ملی ہیں‘۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے فجر کی نماز جامع مسجد کے اندر ہی ادا کی۔ لیکن فجر نماز ادا کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کو بند کردیا‘۔

دریں اثنا پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ اس روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کرکے لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا۔ سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ مضافاتی علاقوں سے آنے والے دودھ اور سبزی فروشوں کو پابندی والے علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تاہم پائین شہر کے برخلاف سری نگر کے سیول لائنز میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ سیول لائنز میں سینکڑوں کی تعداد میں چھاپڑی فروشوں نے اپنا سامان فروخت کے لئے سجارکھا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز