جنید کا بے رحمانہ قتل معاملہ ، تین دن بعد کھلی ہریانہ حکومت کی نیند

Jun 25, 2017 05:38 PM IST | Updated on: Jun 25, 2017 05:38 PM IST

کھنداولی ، ہریانہ : جنید قتل کے تین دن بعد ریاستی حکومت کی نیند کھلی ہے۔ پرتھلا (فرید آباد) کے ممبر اسمبلی ٹیک چند شرما اتوار کو كھنداولي گاؤں پہنچے۔ ان کے ساتھ وقف بورڈ بورڈ کے چیئرمین رئيس خان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے فرید آباد کی ضلع ریڈ کراس سوسائٹی کی جانب سے جیند کے والد کو 5 لاکھ کا چیک سونپا ۔ شرما نے بتایا کہ یہ رقم زخمیوں کے علاج کے لئے ہے۔ منگل کو ہونے والی ہریانہ کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعلی منوهرلال سے معاوضہ کی بات کی جائے گی ۔

وقف بورڈ ہریانہ کے چیئرمین نے بھی 5 لاکھ روپے وقف بورڈ سے دینے کا اعلان کیا۔ زخمی نوجوانوں میں سے ایک کو وقف بورڈ میں سرکاری نوکری دی جائے گی۔ دوسرے کو ڈی سی ریٹ پر نوکری ملے گی۔شرما نے کہا کہ یہ بیف کا معاملہ نہیں تھا، سیٹ کو لے کر تنازع ہوا تھا، اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔

جنید کا بے رحمانہ قتل معاملہ ، تین دن بعد کھلی ہریانہ حکومت کی نیند

دریں اثنا جنید کے گھر نوح (میوات) کے ممبر اسمبلی ذاکر حسین بھی پہنچے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز كھنداولي میں کمیونسٹ پارٹی کی لیڈر برندا کرات اور محمد سلیم بھی پہنچے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ قتل صرف دو گروپوں میں جھگڑے کا نتیجہ نہیں ہے، یہ حملہ فرقہ پرست عناصر نے کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جمعرات شام کو دہلی سے پلول جانے والی ای ایم یو میں کچھ لوگوں نے 16 سالہ جنید کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ متاثرہ خاندان روزہ افطار سے پہلے دہلی سے خریداری کرکے واپس گھر جا رہا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز