ہریانہ : جنید کے گاوں میں نہیں منائی گئی عید کی خوشیاں ، کالی پٹی باندھ کر صرف ادا کی گئی دوگانہ

Jun 26, 2017 05:36 PM IST | Updated on: Jun 26, 2017 05:36 PM IST

بلبھ گڑھ : غازی آباد متھرا اے ایم یو ٹرین میں نوجوان جنید خان کے بے رحمی سے قتل کی وجہ سے آج اس کے گاون میں عید کی خوشیاں نہیں منائی گئیں ، لوگوں نے کالی پٹی باندھ کر صرف دوگانہ ادا کی ۔ اس موقع پر جنید کے والد نے حکومت سے تیکھے سوال کئے ۔ جنید کے والد جلال الدین خان نے حکومت سے پوچھا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے؟ ۔

دی ٹیلیگراف سے بات چیت میں جنید کے والد نے پوچھا کہ کیا میرا بیٹا ہندوستانی نہیں تھا ، مسلمانوں کے لئے بڑھتی ہوئی نفرت کی وجہ سے میں نے اپنے بچے کو کھو دیا ہے ۔

ہریانہ : جنید کے گاوں میں نہیں منائی گئی عید کی خوشیاں ، کالی پٹی باندھ کر صرف ادا کی گئی دوگانہ

خیال رہے کہ بائیس جون کو غازی آباد - متھرا ای ایم یو ٹرین میں کچھ لوگوں نے كھداولي، بللبھ گڑھ (فرید آباد) کے رہے والے 15 سالہ جنید کا چاقو مار کر بے رحمی سے قتل کر دیا تھا ۔  متاثرین کا کہنا ہے کہ مارپیٹ کرنے والوں نے ان کے مذہب کو لے کر کافی غلط الفاظ بھی کہے ۔

اس واقعہ کو لے کر گاؤں کے لوگوں میں غم اور غصہ دونوں ہے ۔ جہاں ایک طرف پورے ملک میں عید دھوم دھام سے منائی گئی ، وہیں جنید کے گاؤں میں ماتم چھایا رہا ۔ کسی کے گھر میں عید کی کوئی خاص ڈش نہیں بنائی گئی۔

كھنداولی کے رہنے والے مبین خان نے بتایا کہ صرف عید کی نماز ادا کی گئی ہے ، اس کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوا، ہماری خوشی کو تو حیوانوں نے چھین لیا ۔ خان کہا کہ گاؤں میں لوگوں نے سیاہ پٹی باندھ کر نماز ادا کی ۔ ارد گرد کے گاوں میں بھی لوگوں نے عید نہیں منائی ہے ۔  جنید کے گھر تعزیت کیلئے آنے والوں کا تانتا رہا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز