جسٹس دیپک مشرا ملک کے 45 ویں چیف جسٹس مقرر، راشٹرپتی بھون کے دربارہال میں لیا حلف

Aug 28, 2017 12:02 PM IST | Updated on: Aug 28, 2017 12:03 PM IST

نئی دہلی۔ ممبئی کے سیریل بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کی پھانسی کے خلاف نصف شب میں سماعت کرنے اور نربھیا عصمت دری معاملے کے قصورواروں کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے والے جسٹس دیپک مشرا نے آج ملک کے 45 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔ راشٹرپتی بھون کے تاریخی دربار ہال میں منعقد ایک تقریب میں صدر رام ناتھ کووند نے جسٹس مشرا کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر نائب صدر ایم ونکیا نائڈو، وزیر اعظم نریندر مودی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور مرکزی وزراء کے علاوہ کئی نامور شخصیات موجود تھیں۔ ان کی میعاد کار تین اکتوبر 2018 کو ختم ہوگی۔

جسٹس دیپک مشرا ہندوستان کے چیف جسٹس (سي جےآئي) بننے والے اڈیشہ کے تیسرے جج ہوں گے۔ ان سے پہلے اڈیشہ سے تعلق رکھنے والے جسٹس رنگناتھ مشرا اور جسٹس جی بی پٹنائک بھی اس عہدے کو وقار بخش چکے ہیں۔ جسٹس مشرا یعقوب میمن پر دے گئے فیصلے کی وجہ سے کافی سرخیوں میں رہے تھے۔ انہوں نے رات بھر سماعت کرتے ہوئے یعقوب کی پھانسی پر روک لگانے سے متعلق عرضی خارج کر دی تھی۔

جسٹس دیپک مشرا ملک کے 45 ویں چیف جسٹس مقرر، راشٹرپتی بھون کے دربارہال میں لیا حلف

جسٹس دیپک مشرا پٹنہ اور دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔

جسٹس مشرا پٹنہ اور دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ تین اکتوبر 1953 کو پیدا ہونے والے جسٹس مشرا کو 17 فروری 1996 کو اڈیشہ ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج بنایا گیا تھا۔ تین مارچ 1997 کو ان کا تبادلہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں کر دیا گیا۔ اسی سال 19 دسمبر کو انہیں مستقل تقرری دی گئی۔ 23 دسمبر 2009 کو انہیں پٹنہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا اور 24 مئی 2010 کو دہلی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا۔ وہاں رہتے ہوئے انہوں نے پانچ ہزار سے زیادہ مقدمات میں فیصلے سنائے اور لوک عدالتوں کو زیادہ کارآمد بنانے کی کوشش کی۔ انہیں 10 اکتوبر 2011 کو ترقی دے کر سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ جسٹس مشرا نے ہی ملک بھر کے سینما گھروں میں قومی ترانے کا حکم جاری کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز