سپریم کورٹ اور جسٹس کرنان کے درمیان ٹکراو جاری ، جسٹس كرنان نے آئینی بینچ کے خلاف جاری کیا حکم

Mar 31, 2017 02:06 PM IST | Updated on: Mar 31, 2017 02:06 PM IST

نئی دہلی : کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس سی ایس كرنان اور سپریم کورٹ کے درمیان تصادم ختم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔كرنان کے خلاف جاری توہین عدالت کے معاملہ میں جمعہ کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ عدالت عظمی کے سخت رخ کے بعد كرنان جمعہ کو عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور خود کو انتظامی اور عدالتی کاموں پر بحال کئے جانے کی اپیل کی۔تاہم کورٹ نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور سپریم کورٹ کی توہین کے معاملہ میں چار ہفتے میں جواب دینے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے کرنان سے کہا ہے کہ وہ اپنے اس مبینہ بیان کے تعلق سے تحریری جواب داخل کریں ،جس میں انہوں نے بعض ججوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ قبل ازیں عدالت نے سختی سے ایک حکم جاری کرکے ان سے کہا تھا کہ وہ آج کے دن عدالت میں ذاتی طور پر حاضر ہوں۔ سات ججوں کا آئینی بنچ جسٹس کرنان کے خلاف معاملے کی سماعت کررہا ہے۔ بنچ کی سربراہی چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کررہے ہیں۔ یہ بنچ جسٹس دیپک مشرا ، جے چیلامیشور، راجن گوگوئی ، مدن بی لوکور، پناکی چندراگھوش اور کورین جوزف پر مشتمل ہے۔ ہندستانی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہائی کورٹ کا کوئی جج سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر حاضر ہوکر اپنی مدافعت کرنے جارہا ہے۔

سپریم کورٹ اور جسٹس کرنان کے درمیان ٹکراو جاری ، جسٹس كرنان نے آئینی بینچ کے خلاف جاری کیا حکم

ادھر نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت میں جسٹس کرنان نے کہا کہ آئینی بینچ کے سات ججوں کے خلاف وہ حکم پاس کریں گے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس بات کا حق ہے ، تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا اور اس کے کچھ دیر بعدجسٹس كرنان نے سات ججوں کے خلاف حکم جاری بھی کر دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز