اقلیتوں نے آج سے پہلے ایسا کبھی وقت نہیں دیکھا : جسٹس ایم ایس اے صدیقی

Aug 07, 2017 10:58 PM IST | Updated on: Aug 07, 2017 10:58 PM IST

نئی دہلی : نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنش( اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے کمیشن ) کے سابق چیئرمین جسٹس ایم ایس اے صدیقی نے کہا ہے کہ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اقلیتوں کو ایسی پریشان کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اقلیتوں نے ایسے دن کبھی اس سے پہلے کسی حکومت میں نہیں دیکھے تھے جو آج انہیں دیکھنا پڑ رہا ہے، حالانکہ ریاست یا حکومت بنیادی حقوق کی محافظ اور نگہبان ہوتی ہے لیکن اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے حقوق کی علانیہ پامالی ہورہی ہے ۔

جسٹس صدیقی نے آج یہاں ’’پرامن بقائے باہم: امکانات ، مشکلات اور استحکام ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت اقلیتوں کے ووٹوں کے بغیر الیکشن میں تو کامیابی حاصل کرسکتی ہے لیکن وہ ان کے بغیر ملک کو پرامن اور صحیح طریقہ سے چلا نہیں سکتی ہے، ملک تیزی سے یک جماعتی حکمرانی ( آمریت ) کی طرف بڑھ رہا ہے اور ا س صورت میں پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں رہ جائے گی! ‘‘ شرکا نے کہا کہ ملک میں بہت تیزی سے سماجی ، اقتصادی ، تعلیمی، سیاسی اور دیگر سطحوں پر تفاوت اور فرق بڑھ رہا ہے جو قومیں اور طبقات حاشیہ پر ہیں وہ مزید پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ یہ چیز ملک کے حق میں اچھی نہیں۔یہاں تک کہ ایک فیصد دولت مندوں کے پاس ملک کی 58فی صد آبادی کے وسائل ہیں۔ آ ل انڈیا کنفیڈریشن فار ویمن امپاورمنٹ تھرو ایجوکیشن، برطانیہ کے ادارہ اسکول ڈیولپمنٹ سپورٹ ایجنسی اور آل انڈیا فیڈریشن فار سوشل جسٹس نے مشترکہ طور پر اس گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا تھا ۔

اقلیتوں نے آج سے پہلے ایسا کبھی وقت نہیں دیکھا : جسٹس ایم ایس اے صدیقی

ملک کے تبدیل ہوتے ہوئے سنگین حالات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے جسٹس صدیقی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جارحانہ قوم پرستی نے ملک میں ایک سماجی کشیدگی کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔انہوں نے ایک مویشی کے تحفظ کے نام پر ہورہے ظلم و تشدد کے پس منظر میں کہا کہ جب کسی چرچ میں آگ لگائی جاتی ہے تو پولیس بھی خاطیوں کو نہیں پکڑتی ہے ۔ اس سے پہلے مذہبی اقلیتوں پر ایسا وقت کبھی نہیں آیا تھا۔ لاء اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ اس سے دنیا میں ملک کی بڑی بدنامی ہورہی ہے ۔

انہوں نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں یوپی کے وزیراعلی یوگی کی تنظیم ہند و وااہنی کو دہشت گرد تنظیم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے ملک میں تیزی سے ہو رہی سیاسی تبدیلیوں کے ذیل میں کہا کہ اس ملک نے اندراگاندھی کے تجربہ سے کوئی سبق نہیں لیا جب یہ صدائیں بلند ہوتیں تھی کہ اندرا از انڈیا اور انڈیا از اندرا، آج ملک تیزی سے یک جماعتی رول کی طرف بڑھ رہا ہے اسے فوری طور پر روکنے کے لئے ایک جوابی انقلاب کی ضرورت ہے ۔

دہلی یونی ورسٹی کے وجئے ورما نے کہا کہ ملک میں ذات کے نام پر جو ڈرامہ جاری ہے اس داغ کو ابھی تک نہیں مٹایا جاسکا ہے ۔ انہوں نے صرف ہندتو کو طرز حیات قرار دینے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہر دھرم اور مذہب کے پاس ایک ضابطہ حیات ہے ۔ کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پھر ایک مرتبہ اس فیصلہ پر نظر ثانی نہ کرکے مایوس کیا جس کے تحت ہندتو کو ایک مذہب کے بجائے طرز زندگی قرار دیا گیا ہے۔

برطانیہ سے آئے مہمان فاروق ملا نے ان کے ملک میں بقائے باہم کے حوالے انکی تنظیم کے تجربات سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن بقائے باہم کے لئے بین مذہبی مکالموں کی سخت ضرورت ہے۔ آل انڈیا کیتھولک کونسل کے جان دیال نے بھی نے اسی حوالے معروضات پیش کئے اور انہوں نے کہا جب ننوں ( راہباؤں) کے عصمت دری کے واقعات ہورہے تھے مسلمانوں نے اس پر احتجاج نہیں کیا ۔

ان کے علاوہ ، برٹش ہائی کمیشن کے اسد مرز ، ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمدساجد، ڈاکٹر جی ایم شاہ اطہر ، دہلی اقلیتی کمیشن کی محترمہ اسنہا، جامعہ کی پروفیسر تسنیمہ مینائی ، محترمہ بیلا داس، پرفیسر اجئے کمار اور دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔ گول میز کانفرنس کے انعقاد کے مقصد بیان کرتے ہوئے کنفیڈریشن فار ویمن امپاورمنٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر شبستاں غفار نے کہا کہ اسوقت جو حالات ہیں وہ سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں ۔ اسے روکنے کے لئے ہیں ہر سطح پر کوشش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز