دلت۔ مسلم اتحاد کی ضرورت کل کے مقابلے میں آج اوربھی زیادہ : سہیل اعجاز صدیقی

May 18, 2017 03:06 PM IST | Updated on: May 18, 2017 03:06 PM IST

نئی دہلی۔ اس استدلال کے ساتھ کہ ملک میں امن انصاف اوربدحالوں کی خوشحالی کے لئے دلت مسلم اتحاد کی ضرورت کل کے مقابلے میں آج اوربھی زیادہ ہے ، آل انڈیا فیڈریشن فار سوشل جسٹس کے صدر جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے کہا کہ اگرچہ اس ملک کی ہندو اکثریت سیکولر ہے لیکن مسلمانوں کے مسائل کا حل دلتوں کے ساتھ اتحاد میں مضمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو دیگر چیلنجوں سے کہیں زیادہ ایک ایسے معاشرتی تناو کا سامنا ہے جس کا مقابلہ مسلمان، دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات نے اگر اپنے اپنے طور پر کرنے کی کوشش کی تو وہ سیاسی شعبدہ بازوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ یہ کام صرف ان کے آپسی اتحاد کے ذریعہ ممکن ہے جس کا بیڑہ فیڈریشن نے اٹھایا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس طرح ایک نیا سیاسی محاذ کھولا جارہا ہے، نیشنل کمیشن فور مانیٹری ایجوکیشن آف انڈیا کے سابق چیرمین نے اس خیال کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ اس محاذ پر مرحوم کانشی رام کی خدمات کا احترام کرتے ہیں لیکن فیڈریشن اس کوشش کے حوالے سے قطعی غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد گاوں، ضلع ،ریاستوں اور قومی سطح تک ایک ایسی بیداری پیدا کر نا ہے جو دلتوں ، مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کومزید کسی کا آلہ کار بننے سے عملی طور پر بچائے۔

دلت۔ مسلم اتحاد کی ضرورت کل کے مقابلے میں آج اوربھی زیادہ : سہیل اعجاز صدیقی

فیڈریشن کے نائب صدر سید قطب الرحمان، مجلس مشاورت کے چیئر مین پروفیسر نفیس احمد، ایڈیشنل سکریٹری انجنیئر محمد اسلم کی غیر موجودگی میں جسٹس صدیقی نے میڈیا کے ایک سے زیادہ تیکھے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس ملک میں ایک سے زیادہ مذاہب کی نام نہاد اعلی ذاتیں انسانوں کے ساتھ انسانی معاملات میں تنگ دل ثابت ہوئی ہیں ۔ ’’خاص طور پر مسلمانوں کو نہ تو غیر سمجھا گیا نہ ہی دل سے اپنایا گیا ‘‘۔طلاق ثلاثہ سے متعلق جاری مسلکی بحث پر ایک سوال کو غیر متعلق قرار دیکر اس کا راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے جسٹس صدیقی نے اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ اس وقت مسلمانوں کے بکھراو کا یہ عالم ہے کہ ان کی شناخت فسادات میں مارے جانے کے بعد ہی ہو پاتی ہے ۔ عام حالات میں تو وہ اپنی بس ذات اور مسلک سے پہچانے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بھید بھاو نے بھی اس ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیا لیکن وہ اس سے بھی مثبت استفادہ کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اتر پردیش میں یوگی حکومت کا قیام دلت۔ مسلم اتحاد کو وہ مہمیز لگا سکتی ہے جو بصورت دیگر اب تک سیاست کی نذر ہوتی آئی ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجلس مشاورت کے رکن پروفیسر وویک کمار کسی ناگزیر ذاتی ضرورت کی وجہ سے آج شریک بزم نہیں ہوسکے لیکن ان کی نیک تمنائیں فیڈریشن کے ساتھ ہیں جس نے اپنے اغراض و مقاصد کا دائرہ حاشئے پر پہنچ جانے والے معاشرتی طبقات کو رنگ اور نسل،ذات اور مذہب سے بالا تر ہو کر مین اسٹریم میں لانے کے لئے فاصلاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلیمی سٹلائیٹ اور اس نوعیت کے دوسرے وسائل سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا مصمم ارادہ بنا لیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز