بھیم سین جوشی، محمد رفیع جس کے شاگرد رہے، جانیے اس 'کیرانہ گھرانے' نے کیوں کی نقل مکانی!۔

Feb 06, 2017 05:59 PM IST | Updated on: Feb 06, 2017 06:03 PM IST

کیرانہ۔ جس کیرانہ کو آپ مذہبی بنیاد پر ہوئی نقل مکانی کے لئے جانتے ہیں وہ کلاسیکی موسیقی کی خیال گائیکی کا اہم ترین مرکز رہا ہے۔ موسیقی کے اس گھرانے کی بھی نقل مکانی ہو چکی ہے۔ اب اس سے منسلک کوئی بھی موسیقار یہاں نہیں رہتا۔ قصبے کے لوگ کہتے ہیں کہ سریلی آواز والے کیرانہ کی منفی شبیہ صرف رہنماؤں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

اس گھرانے کی ایک آواز استاد مشكور علی خاں آج کل کولکتہ میں رہتے ہیں۔ نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام کے نامہ نگار نے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ یہ سن کر دکھ ہوتا ہے کہ 'رہنماؤں نے اسے بدنام کر دیا۔ یہاں تو ہندو مسلم ساتھ رہتے ہیں '۔ گھرانے کے لوگ یہاں سے دوسری جگہ کیوں چلے گئے ؟، اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ 'کیرانہ میں گانے بجانے کا ماحول نہیں تھا اس لیے ہمارا پورا خاندان کیرانہ سے چلا گیا۔ میں کبھی کبھی آتا رہتا ہوں یہاں، جیسی اس قصبے کی شبیہ بنائی گئی ہے ویسا کچھ نہیں ہے۔ کیرانہ چھوڑ کر جو لوگ جا رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر لوگوں کی وجہ روزگار ہے۔

بھیم سین جوشی، محمد رفیع جس کے شاگرد رہے، جانیے اس 'کیرانہ گھرانے' نے کیوں کی نقل مکانی!۔

یوپی کے شاملی ضلع کے اس قصبے کے لوگ کلاسیکی موسیقی کے گھرانے کے بانی استاد عبدالکریم خان (1872-1937) اور ان کے اہل خانہ کو سمجھ نہیں پائے اور مکمل گھرانا نقل مکانی کر مغربی بنگال چلا گیا۔ مشكور علی خان کہتے ہیں کہ  کیرانہ گھرانہ نے نہ صرف بھیم سین جوشی بلکہ گنگوبائی ہنگل، سوائی گندھرو، سریش بابو مانے، روشن آرا بیگم، بیگم اختر اور ہیرابائی بادوڈكر جیسے بڑے کلاسیکی موسیقار دیئے ہیں۔ محمد رفیع نے اسی گھرانے کے گلوکار عبد الوحید خان سے گائیکی سیکھی تھی۔

kairana2

کیرانہ گھرانے اور یہاں کے سیاستدانوں پر 'الماس-اے-کیرانہ' نامی کتاب لکھنے والے ریاست علی 'تابش' كیرانوی کہتے ہیں کہ اس قصبے نے ہمیشہ محبت کا پیغام دیا ہے۔ رہنماؤں نے اس کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی۔ آج تک یہاں ہندو۔ مسلم فساد نہیں ہوا۔ لوگ کیرانہ گھرانے کے فن کو سمجھ نہیں سکے اس لئے اس سے وابستہ لوگ دوسری جگہ چلے گئے۔ یہاں سے نقل مکانی تو ہندو-مسلم دونوں کی ہوئی ہے، لیکن اس کی وجہ مذہبی کشیدگی کبھی نہیں رہی۔ كیرانوی کہتے ہیں کہ گلوکار منا ڈے جب کسی کام سے کیرانہ پہنچے تھے تو اس کی سرحد میں گھسنے سے پہلے احترام میں انہوں نے اپنے جوتے اتار کر ہاتھ میں رکھ لیے تھے۔ لیکن سیاست نے کبھی اسے وہ احترام نہیں دیا، جس کا یہ قصبہ حقدار ہے۔

kairana31

یہ تھا نقل مکانی کا تنازعہ

نقل مکانی کے تنازعہ کا آغاز جون 2016 میں اس وقت ہوا تھا جب یہاں سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے 346 ہندو خاندانوں کی فہرست سونپتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ کیرانہ کو کشمیر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکم سنگھ نے کہا تھا کہ یہاں ہندوؤں کو دھمکایا جا رہا ہے، جس سے ہندو خاندان بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اوم پرکاش کی رپورٹ

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز