اتکل ایکسپریس کی 14 بوگیاں پٹری سے اتریں، 23 افراد کی موت، 400 زخمی

Aug 19, 2017 06:43 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 09:35 AM IST

مظفرنگر۔ اترپردیش میں مظفرنگر کے کھتولی ریلوے اسٹیشن کے پاس آج شام پوری سے ہردوار جانے والی كلنگ-اتكل ایکسپریس کے 14 ڈبے آج پٹری سے اتر جانے کی وجہ سے کم از کم 23 مسافروں کی موت اور 400 مسافر زخمی ہو گئے۔ سرکاری ریلوے پولیس (جی آر پی) کے ہیڈ کوارٹر سے ملینے والی اطلاع کے مطابق ٹرین حادثے میں 23 مسافروں کی موت ہوئی ہے اور 400 مسافر زخمی ہیں۔ زخمیوں میں 26 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ زخمیوں کو میرٹھ اور مظفرنگر کے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

ادھر، عینی شاہدین نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد 28 اور تقریباً 400 سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں۔ موقع پر ریسکیو اور امدادی کام جاری ہے۔ سینئر حکام جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں ۔ مرکز اور ریاستی حکومت بچاؤ اور امدادی کام کی پل پل کی معلومات حاصل کر رہی ہے۔

پولیس اور انتظامی افسران جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ ٹرین پوری سے ہری دوار جا رہی تھی۔ حادثہ کے بعد سہارنپور اور مظفر نگر سے افسران جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔ اندھیرا ہونے کے مدنظر راحت اور بچاو کے کاموں میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ میرٹھ اور مظفر نگر سے سبھی ایمبولینس حادثہ والی جگہ کے لئے روانہ کر دی گئی ہیں۔ اترپردیش اے ٹی ایس کی ٹیم بھی موقع پر جا رہی ہے۔

utkal-express-acident

دریں اثنا، ریلوے ذرائع نے بتایا کہ پوری سے ہردوار جانے والی كلنگ-اتكل ایکسپریس کے چھ ڈبے شام پانچ بج کر 46 منٹ پر پٹری سے اترے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ میرٹھ اور مظفر نگر کے ڈاکٹروں کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے۔ میرٹھ سے ریلف ٹرین بھیج دی گئی ہے۔ مظفر نگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مقامی سطح پر ڈاکٹروں کا اہتمام کیا ہے۔ اس حادثے کی وجہ سے، دلی - دہردون ریلوے میں رکاوٹ پید ہوگئی ہے۔ ٹرینوں کا روٹ بدل کر شاملی اور مراد آباد سے بھیجی جا رہی ہے۔ ریلوے کے حکام اور مقامی انتظامیہ امدادی اور بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں۔

حادثہ کا شکار ٹرین سے مع اہل و عیال ہری دوار جا نے والے رام چندر سنگھ نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ خاندان کے ساتھ کچھ کھا رہے تھے کہ ایک تیز آواز ہوئی اور دیکھتے دیکھتے کہرام مچ گیا۔ ٹرین میں افراتفری کا ماحول تھا۔ لوگ بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چند سیکنڈ میں نظارہ بدل گیا اور ہنس بول رہے مسافروں میں چیخ پکار مچ گئی۔

مسٹر سنگھ کے مطابق، مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے پہلے مسافروں کی مدد کی۔ زخمیوں کو کوچ سے نکالنا شروع کیا اور اپنی ذاتی گاڑیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کے وقت دھماکے کی آواز سنی گئی لیکن حکام نے دھماکے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز