کشمیر: معمر شخص کو ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کر دیا گیا، موبائل، انٹرنیٹ خدمات معطل

Oct 06, 2017 08:20 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 08:21 PM IST

سری نگر۔ وادی کشمیر میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے نہ تھمنے والے سلسلے نے اب تشویشناک اور خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں لوگوں نے ایک 70 سالہ معمر شخص کو ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کردیا ہے۔ وادی میں چوٹی کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان واقعات کے خلاف عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ کو وادی بھر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرا دیں۔ اس کے علاوہ ریلوے حکام نے سول و پولیس انتظامیہ کی ایڈوائزری پر وادی میں جمعہ کو دن کے ایک بجے ریل خدمات معطل کردیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی میں جمعہ کو خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے تین نئے واقعات سامنے آئے ہیں جن کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اس دوران چوٹی کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بیچ نامعلوم افراد نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک امام مسجد کی داڑھی کاٹ دی ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کی علی الصبح فجر نماز سے قبل پیش آیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں لوگوں نے ایک 70 سالہ معمر شخص کو غلطی سے ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کردیا ہے۔ یہ واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو پیش آیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ’اننت ناگ کے ڈانٹر نامی گاؤں میں لوگوں نے 70 سالہ بزرگ شخص پر یہ سمجھ کر اینٹ سے حملہ کیا کہ وہ چوٹی کاٹنے والا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ وانی کو پہلے ضلع اسپتال اننت ناگ اور بعدازاں تشویشناک حالت میں شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔ وادی میں حالیہ دنوں میں کسی فرد کو غلطی سے ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق وادی میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران لوگوں نے متعدد افراد کی یہ سمجھ کر شدید پٹائی کی گئی کہ وہ چوٹی کاٹنے والے ہیں۔ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وادی بھر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات احتیاطی اقدامات کے طور پر منقطع کردی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا قدم کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعہ کو دوپہر قریب ساڑھے بارہ بجے منقطع کی گئیں۔ وادی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گذشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں ویڈیوز نمودار ہوئے جن میں متاثرہ خواتین کی روداد اور عوامی ناراضگی کو دکھایا گیا۔ ریلوے انتظامیہ نے وادی میں ریل خدمات جمعہ کو دوپہر ایک بجے معطل کردیں۔

کشمیر: معمر شخص کو ’چوٹی کاٹنے والا‘ سمجھ کر ہلاک کر دیا گیا، موبائل، انٹرنیٹ خدمات معطل

علامتی تصویر

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سول و پولیس انتظامیہ کی ایڈوائزری پر اٹھایا گیا ہے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی میں خواتین کے بال کاٹنے میں آئے روز تشویشناک اور شرمناک اضافے کے خلاف جمعہ کے روز نماز کے بعد ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی میں جمعہ کو چوٹی کاٹنے کے 3 نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بالائی شہر کے نٹی پورہ جمعہ کی صبح چوٹی کاٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے صبح کے وقت آزاد بستی نٹی پورہ میں ایک خاتون کی چوٹی کاٹ دی۔ یہ خبر پھیلتے ہی نٹی پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر مرتکبین کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ نٹی پورہ کے بعد پانتھہ چوک علاقہ میں نامعلوم افراد نے ایک خاتون کی چوٹی کاٹنے کی کوشش کی۔ اس کے خلاف لوگوں نے قومی شاہراہ پر آکر شدید احتجاج کیا۔

سری نگر میں چوٹی کاٹنے کا پہلا واقعہ یکم اکتوبر کو بتہ مالو علاقہ میں پیش آیا۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سنگری نامی گاؤں میں نامعلوم افراد نے جمعہ کی صبح ایک جواں سال لڑکی کے بال کاٹ دیے۔ اس واقعہ کے خلاف بھی علاقہ بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ احتجاجی لوگ بال کاٹنے کے واقعات میں ملوث لوگوں کو فوری طور پر کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ جہاں نامعلوم افراد کے ہاتھوں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات سے اہلیان وادی بالخصوص خواتین میں شدید خوف وہراس پایا جارہا ہے، وہیں چوٹی کاٹنے کے پہلے واقعہ کو پیش آئے ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود ریاستی پولیس اس معمے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات میں ملوث قصورواروں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لئے کوششیں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کے علاوہ نقدی انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے کہا ہے کہ خواتین کی چوٹنے کاٹنے کے واقعات کی تہہ تک جانے کے لئے کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں ریاستی پولیس کی خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز