کشمیر ایک انسانی مسئلہ، پرامن تصفیے کیلئے مذاکرات ناگزیر: گیلانی ، میرواعظ اور یاسین ملک کا مشترکہ بیان

Sep 15, 2017 09:47 PM IST | Updated on: Sep 15, 2017 09:47 PM IST

سری نگر: کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے پُرامن تصفیے کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے بتایا ’مشترکہ مزاحمتی قیادت کا ایک مختصر اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب مزاحمتی قائدین میرواعظ اور یاسین ملک، مسٹر گیلانی کی عیادت کے لیے ان کی رہائش گاہ حیدرپورہ تشریف لائے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد مشترکہ مزاحمتی قائدین نے ایک اخباری بیان میں مذاکرات کے حوالے سے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی بھی نتیجہ خیز مذاکرات سے انکار نہیں کیا ہے، البتہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کو ایک انتظامی مسئلہ سمجھ کر مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے کے بجائے ریاست کے عوام پر فوجی طاقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے مرعوب اور مغلوب بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

کشمیر ایک انسانی مسئلہ، پرامن تصفیے کیلئے مذاکرات ناگزیر: گیلانی ، میرواعظ اور یاسین ملک کا مشترکہ بیان

تصویر: دی ہندو

کشمیری علیحدگی پسند قیادت نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے’ پیلٹ گنوں کی بارشیں برسانے کے لیے سی آر پی ایف کو ہیلی کاپٹر مہیا کئے جارہے ہیں، پولیس انتظامیہ کو بکتربند گاڑیوں سے لیس کیا جارہا ہے، حریت قائدین، کارکنوں، وکیلوں، سرکاری ملازموں، تجارت پیشہ بیوپاریوں، صحافیوں غرض زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کردار کشی اور بدنام ومرعوب کرنے کی مہم جوئی میں این آئی اے جیسی ایجنسیوں کو متحرک کیا گیا ہے۔

پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرکے حریت پسند سیاسی قائدین اور کارکنوں کو ریاست اور ریاست سے باہر تہاڑ جیسے بدنامِ زمانہ جیلوں میں نظربند کیا گیا ہے۔ اس طرح پوری ریاست کو فوجی شکنجے میں کستے ہوئے یہاں کے عوام کو ایک بدترین دورِ ابتلاء میں مجبور ومقہور کیا جارہا ہے۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں مذاکرات کی ڈفلی بجانا مذاکراتی میز سے راہِ فرار اختیار کرنے کے بہانے تلاش کرنے کے مترادف ہے‘۔

خیال رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے 11 ستمبر کو سری نگر میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کشمیری علیحدگی پسندوں کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جو کوئی مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے، میں اس کے لئے کھلے دل و دماغ سے تیار ہوں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز