Live Results Assembly Elections 2018

میری تقرری کا مقصد کشمیر میں امن کی بحالی اور مسئلہ کا طویل مدتی حل ڈھونڈنا : مذاکرات کار دنیشور شرما

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور شرما نے کہا کہ ان کی بحیثیت ’مذاکرت کار‘ تقرری وادی کشمیر میں امن کی بحالی اور طویل مدتی حل ڈھونڈ نکالنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے۔

Nov 10, 2017 07:58 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 08:00 PM IST

جموں: انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور شرما نے کہا کہ ان کی بحیثیت ’مذاکرت کار‘ تقرری وادی کشمیر میں امن کی بحالی اور طویل مدتی حل ڈھونڈ نکالنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت ’مذاکرات کار‘ ان کا پہلا دورہ جموں وکشمیر بہت اچھا رہا ہے۔مسٹر شرما نے جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ اپنی مختصر بات چیت میں کہا ’امن کی بحالی اور طویل مدتی حل نکالنے کے لئے ہی مرکزی سرکار نے مجھے بحیثیت مذاکرات کارتعینات کیا ہے‘۔

یہ پوچھے جانے پر ’کیا اگلے دورے کے دوران علیحدگی پسند رہنما آپ سے ملاقات کریں گے‘، تو مذاکرات کار کا جواب تھا ’دیکھتے ہیں۔ یہ تو میرا پہلا دورہ تھا۔ میں یہاں آتا رہوں گا‘۔ دنیشور شرما نے بحیثیت ’مذاکرات کار‘ اپنا پہلا دورہ جموں وکشمیر کو سمیٹے ہوئے جمعہ کو یہاں سرمائی دارالحکومت جموں میں سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی کی قریب 30 وفود سے ملاقات کی۔ وہ ہفتہ کی صبح واپس نئی دہلی روانہ ہوں گے۔ وادی کشمیر میں تین دن گذارنے کے بعد دنیشور شرما جمعرات کو دوپہر کے وقت یہاں پہنچے۔

میری تقرری کا مقصد کشمیر میں امن کی بحالی اور مسئلہ کا طویل مدتی حل ڈھونڈنا : مذاکرات کار دنیشور شرما

انہوں نے جمعرات کو یہاں ریاستی گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت پارٹی کے ریاسی صدر ست شرما کررہے تھے۔مذاکرات کار دنیشور شرما نے وادی میں قریب 60 وفود اور بعض مین اسٹریم سیاسی لیڈران بشمول نیشنل کانفرنس کارگذار صدر عمر عبداللہ، سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی، پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین، ڈی پی این کے غلام حسن میراور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید سے ملاقات کی۔

کانگریس کے وفد نے ریاستی صدر غلام احمد میر کی قیادت میں مسٹر شرما کے ساتھ سری نگر میں ملاقات کی۔ تاہم علیحدگی پسند خیمے میں سے کسی بھی فرد نے مسٹر شرما سے ملاقات نہیں کی ۔اس کے علاوہ وادی کی تقریباً تمام بنیادی سول سوسائٹی جماعتوں، کشمیر بار ایسو سی ایشن اور تجارتی انجمنوں نے بھارتی مذاکرات کار کے ساتھ ملاقات کرنے سے گریز کیا۔ مسٹر شرما اپنے اگلے دورہ جموں وکشمیر کے دوران خطہ لداخ کا بھی دورہ کریں گے۔دنیشور شرما نے سری نگر میں قیام کے تیسرے دن بدھ کو علیحدگی پسندوں سے ملاقات کی خواہش کا برملا اظہار کیا۔

Loading...

انہوں نے نامہ نگاروں کے ساتھ اپنی مختصر بات چیت کے دوران کہا تھا ’میں (حریت کانفرنس) سے ملاقات کی پوری کوشش کریں گے‘۔ اس بیان سے قبل نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران مذاکرات کار دنیشور شرما سے کہا تھا کہ وہ گیسٹ ہاوس میں بیٹھ کر لوگوں کا انتظار نہ کریں بلکہ ازخود لوگوں کے پاس جائیں۔ظاہری طور پر عمر عبداللہ چاہتے ہیں کہ دنیشور شرما از خود علیحدگی پسند قائدین کے دروازے کھٹکھٹائیں۔ عمر عبداللہ کے الفاظ کچھ یوں تھے ’اگر آپ (دنیشور شرما) گیسٹ ہاوس میں بیٹھ کر لوگوں کا انتظار کرتے رہیں گے تو یہ سلسلے آگے نہیں بڑھے گا۔

میں امید کرتا ہوں کہ اگلی بار جب وہ آئیں گے ، ان کی کوششوں میں ہمیں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔ اور یہاں کے لوگ امن اور سکون کی فضا میں اپنی زندگی گذر بسر کرنا چاہتے ہیں‘۔مرکزی سرکار نے گذشتہ ماہ دنیشور شرما کو ’مسئلہ کشمیر‘ کے فریقین سے بات چیت کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس سے پہلے مرکز میں یو پی اے سرکار نے ’کشمیر‘ پر بات چیت کے لئے تین مذاکرات کاروں دلیپ پڈگاونکر، رادھا کمار اور ایم ایم انصاری کو تعینات کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے اپنی سفارشات پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ وزیر داخلہ میں پیش کی تھی، تاہم قریب 6 سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ان سفارشات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز