دنیشور شرما کی تقرری وقت گذاری کے سوا کچھ نہیں ، ریاست کی اٹانومی بحال کی جائے : فاروق عبداللہ

Nov 05, 2017 07:48 PM IST | Updated on: Nov 05, 2017 07:48 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار کی طرف سے مذاکرات کار کی نامزدگی کو محض وقت کا زیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی جموں و کشمیر کے لئے مصالحت کار، ورکنگ گروپ اور کئی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں لیکن جب ان سب نے اپنی اپنی سفارشات پیش کیں تو انہیں سردخانے کی نذر کردیا گیا اور یہ سارا عمل وقت گذاری کے سوا اور کچھ نہیں ثابت نہ ہوا۔فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار اتوار کے روز شمالی ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈار میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے حال ہی میں نامزد کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما جو کہ انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ ہیں، وادی میں اپنی مذاکراتی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے لئے 6 نومبر یعنی پیر کے روز سری نگر آرہے ہیں۔

مسٹر دنیشور شرما کی آمد سے محض ایک روز قبل فاروق عبداللہ کی جانب سے یہ غیرمتوقع بیان سامنے آیا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ مرکز کی طرف سے ماضی میں جموں و کشمیر کے لئے مقررہ کردہ گروپوں کی سفارشات کا کیا ہوا؟ ان پر آج تک عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔جسٹس صغیر کمیٹی، وزیر اعظم ورکنگ گروپ اور مصالح کار وں کی رپورٹیں اور سفارشات مرکزی سرکار کے مختلف دفاتر میں دھول چاٹ رہی ہیں۔ اگر موجودہ مرکزی سرکار کشمیر کے تئیں پُرخلوص اور سنجیدہ ہے تو وہ ان کمیٹیوں کی رپورٹوں اور سفارشات پر نظر ثانی کرکے عملدرآمد کرے‘۔

دنیشور شرما کی تقرری وقت گذاری کے سوا کچھ نہیں ، ریاست کی اٹانومی بحال کی جائے : فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

نیشنل کانفرنس صدر نے نئے مذاکرات کار دنیشور شرما کی نامزدگی کو بے سود قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے اور وقت گذاری کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے مرکز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا’ جموں وکشمیر کے عوام کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی عمل میں لائی جائے اور ریاست کی اندرونی خودمختاری (اٹانومی) بحال کی جائے جو یہاں کے عوام سے جبری طور پر چھین لی گئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست جموں وکشمیر کی اٹانومی کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھے گی۔

ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر آکر مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات حل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ دہائیوں کی دشمنی، رنجشوں، دوریوں، جنگوں ،الفاظی جنگوں، سرحدوں پر تناؤ سے آج تک نہ کچھ حاصل ہو اور نہ مستقبل میں ہونے والا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کی سیاسی اور فوجی قیادت کو بالغ النظری کا مظاہرہ کرکے دوستانہ تعلقات بحال کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی میں نہ ہی سب کا فائدہ ہے اور دوستانہ ماحول میں ہی مسائل کا حل ڈھونڈ نکالنا آسان ہوجائے گا۔ ریاستی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ غیر ریاستی لوگ یہاں آکر حکومت کو حکومت سازی کیلئے ڈکٹیشن دیتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ اور وزراء ایسے لوگوں کے فرمانوں پر عمل پیرا ہیں جنہیں کشمیر کے ساتھ کوئی بھی واسطہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں اس وقت کچھ بھی ڈھنگ سے نہیں ہو رہا ہے۔ ہر ایک شعبہ زوال پذیر ہے، چہاسو سیاسی اور انتظامی انتشارہے ، اقتصادی بحران نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور امن و قانون نام کی کوئی چیز دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔اس موقع پر پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، ضلع صدر قیصر جمشید لون(ایم ایل سی) اور سینئر لیڈر کفیل الرحمن نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز