مسئلہ کشمیر کے متعلقین کے ساتھ مذاکرات کیلئے پانچ روزہ دورے پر سری نگر پہنچے دنیشور شرما

Nov 06, 2017 06:07 PM IST | Updated on: Nov 06, 2017 06:07 PM IST

سری نگر: مرکزی حکومت کی طرف سے ’مسئلہ کشمیر‘ کے متعلقین کے ساتھ مذاکرات کے لئے حال ہی میں تعینات کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما پیر کو اپنے پانچ روزہ دورہ پر جموں وکشمیر کی دارالحکومت سری نگر پہنچ گئے۔مسٹر شرما جو کہ انٹیلی جنس بیور کے سابق سربراہ ہیں، نے سری نگر پہنچنے کے ساتھ ہی متعلقین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’مسٹر شرما اگلے تین دن سری نگر میں رہیں گے۔

اس کے بعد دو دن جموں میں موجود رہیں گے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سماجی اور سول سوسائٹی تنظیموں کے اراکین کے ساتھ بات چیت کریں گے‘۔ انہوں نے بتایا ’مسٹر شرما اگلی دفعہ خطہ لداخ کا بھی دورہ کریں گے‘۔ انہوں نے مزید بتایا ’مذاکرات کار مسٹر شرما نے پہلے ہی مختلف تنظیموں کے نمائندوں کو بات چیت کے لئے مدعو کیا ہے‘۔

مسئلہ کشمیر کے متعلقین کے ساتھ مذاکرات کیلئے پانچ روزہ دورے پر سری نگر پہنچے دنیشور شرما

علیحدگی پسند جماعتوں، سول سوسائٹی اور کشمیر بار ایسوسی ایشن نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ مسٹر شرما سے ملاقات نہیں کریں گے۔ حریت کانفرنس نے گذشتہ شام کہا کہ نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما کے ساتھ کوئی بھی حریت پسند جماعت یا فورم کسی بھی بے مقصد مذاکراتی عمل کا حصہ بننے سے پرہیز کریں گے۔

حریت کے مطابق ایسے مذاکرات کار جو کشمیر کو شام ویمن کی وسیع تر تباہ کاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی عوام کو مرعوب کرنے کی بالواسطہ دھمکیاں دینے اور اسلام سمجھانے کی باتیں کررہا ہو دراصل فوجی آپریشن کے ذریعے یہاں کی حریت پسند قیادت کو جبری طور پر مذاکرات کاری کا حصہ بننے کی ڈکٹیشن دے رہا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی مذاکرات کار کی نامزدگی کو محض وقت کا زیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی جموں و کشمیر کے لئے مصالحت کار، ورکنگ گروپ اور کئی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں لیکن جب ان سب نے اپنی اپنی سفارشات پیش کیں تو انہیں سردخانے کی نذر کردیا گیا اور یہ سارا عمل وقت گذاری کے سوا اور کچھ نہیں ثابت ہوا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ مرکز کی طرف سے ماضی میں جموں و کشمیر کے لئے مقررہ کردہ گروپوں کی سفارشات کا کیا ہوا؟ ان پر آج تک عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔

جسٹس صغیر کمیٹی، وزیر اعظم ورکنگ گروپ اور مصالح کار وں کی رپورٹیں اور سفارشات مرکزی سرکار کے مختلف دفاتر میں دھول چاٹ رہی ہیں۔ اگر موجودہ مرکزی سرکار کشمیر کے تئیں پُرخلوص اور سنجیدہ ہے تو وہ ان کمیٹیوں کی رپورٹوں اور سفارشات پر نظر ثانی کرکے عملدرآمد کرے‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز