آپ کو پاک مقبوضہ کشمیر واپس حاصل کرنے سے کون روک رہا ہے ؟ ، عمر عبداللہ کا ہنس راج اہیر پر نشانہ

Nov 16, 2017 08:27 PM IST | Updated on: Nov 16, 2017 08:27 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ہنس راج گنگا رام اہیر کے بیان کہ ’اگر ہم پاکستان زیر قبضہ کشمیر کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو کوئی ہمیں روک نہیں پائے گا‘ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’آپ کو پاکستان زیر قبضہ کشمیر واپس حاصل کرنے سے کون روک رہا ہے؟‘۔انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’’اگر کوشش کریں گے‘‘ سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔ آپ کو پاکستان زیر قبضہ کشمیر واپس حاصل کرنے سے کون روک رہا ہے؟ آپ کھوکھلے الفاظ کے استعمال کے بجائے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو عملی طور پر غلط ثابت کرو۔

عمر عبداللہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیان کہ ’میں فاروق عبداللہ کے بیان کی مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان زیر قبضہ کشمیر ہمارا حصہ ہے اور سابقہ حکومتوں کی غلطیوں کی وجہ سے یہ پاکستان کے پاس ہے۔ اگر ہم اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو ہمیں کوئی روک نہیں پائے گا۔ کیونکہ یہ ہمارا حق ہے اور ہمیں اسے واپس حاصل کرنے کی کوششیں کریں گے‘پر اپنا ردعمل ظاہر کررہے تھے۔ مسٹر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ’سابقہ حکومتوں میں کیا آپ واجپائی صاحب کے فیصلے کہ ہمیں کرگل جنگ کے دوران بھی ایل او سی کے تقدس کا احترام کرنا چاہیے، بھی شامل کرتے ہیں‘۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ مسٹر ہنس راج دراصل نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کہ ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر‘ ہندوستان میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، پر تنقید کررہے تھے۔

آپ کو پاک مقبوضہ کشمیر واپس حاصل کرنے سے کون روک رہا ہے ؟ ، عمر عبداللہ کا ہنس راج اہیر پر نشانہ

عمر عبداللہ : فائل فوٹو

فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز شمالی کشمیر کے اوڑی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر‘ ہندوستان میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے اور سرحد کے اس پار پاکستان نے کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں۔اس سے قبل نیشنل کانفرنس صدر نے 11 نومبر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی کے اجلاسوں کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک لینڈ لاکڈ (چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا) خطہ ہے اور اس کے تینوں پڑوسی چین، پاکستان اور ہندوستان ایٹم بم رکھتے ہیں۔ اور کشمیریوں کے پاس اللہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ(فاروق عبداللہ) پوری دنیا سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے پاس ہے، وہ پاکستان کا ہے۔ جو حصہ ہندوستان کے پاس ہے، وہ حصہ ہندوستان کا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیر کے دونوں حصوں کو اٹانومی دینے میں پنہاں ہے۔ ان بیانات کی وجہ سے انہیں چوطرفہ تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز