حریت کانفرنس کا دعوی ، دنیشور شرما سے مذاکرات کیلئے سید علی شاہ گیلانی کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا

Nov 05, 2017 08:55 PM IST | Updated on: Nov 05, 2017 08:55 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں بزرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار کے نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما سے مذاکرات کے لئے گزشتہ رات ایک سرکاری نمائندے نے مسٹر گیلانی کی حیدرپورہ رہائش گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ تاہم بزرگ حریت رہنما نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا ہے کہ ’ایسے مذاکرات کار جو کشمیر کو شام ویمن کی وسیع تر تباہ کاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی عوام کو مرعوب کرنے کی بالواسطہ دھمکیاں دینے اور اسلام سمجھانے کی باتیں کررہا ہو دراصل فوجی آپریشن کے ذریعے یہاں کی حریت پسند قیادت کو جبری طور پر مذاکرات کاری کا حصہ بننے کی ڈکٹیشن دے رہا ہے‘۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے حال ہی میں نامزد کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما جو کہ انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ ہیں، وادی میں اپنی مذاکراتی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے لئے 6 نومبر یعنی پیر کے روز سری نگر آرہے ہیں۔

مسٹر دنیشور شرما کی آمد سے ایک روز قبل مسٹر گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ’حریت کانفرنس نے ہندوستان کی طرف سے محض وقت گزاری کے لیے مذاکرات کا شوشہ کھڑا کرنے کی روایتی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہندوستان کے نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما کے ساتھ کوئی بھی حریت پسند جماعت یا فورم کسی بھی بے مقصد مذاکراتی عمل کا حصہ بننے سے پرہیز کریں گے۔ ایسے مذاکرات کار جو کشمیر کو شام ویمن کی وسیع تر تباہ کاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی عوام کو مرعوب کرنے کی بالواسطہ دھمکیاں دینے اور اسلام سمجھانے کی باتیں کررہا ہو دراصل فوجی آپریشن کے ذریعے یہاں کی حریت پسند قیادت کو جبری طور پر مذاکرات کاری کا حصہ بننے کی ڈکٹیشن دے رہا ہے‘۔

حریت کانفرنس کا دعوی ، دنیشور شرما سے مذاکرات کیلئے سید علی شاہ گیلانی کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا

حریت کانفرنس نے 4اور 5نومبر کی درمیانی رات کو دس بجے کسی سرکاری نمائندے کی طرف سے حریت چیرمین کے ساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے بھارت کے نامزد مذاکرات کار کے ساتھ سید علی گیلانی پر دباؤ بڑھائے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جبری مذاکرات کاری کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں ہوسکتا ہے۔بیان میں کہا گیا ’ جن حریت پسند رہنماؤں نے اپنی زندگیوں کے قیمتی بیس بیس پچیس پچیس برس یا اس سے زیادہ عرصہ ہندوستان کے جیل خانوں اور انٹروگیشن مراکز میں گزارے ہیں، ان کے سامنے تحریک مزاحمت مقدم ہے، بالخصوص حریت چیرمین سید علی گیلانی ، جنہوں نے 1962ء سے ہی آج تک کم وبیش 23برس کی اسیرانہ زندگی میں کافی نشیب وفراز کا سامنا کیا ہے۔

انہیں آج تک ایک درجن سے زائد بار قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، ان کی رہائش گاہ کو مارٹر گولوں سے ڈہانے کی کوشش بھی کی گئی، انہیں جیل کے اندر جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے لہو لہاں بھی کردیا گیا، یہاں تک کہ ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو بھی مرعوب کرنے کی مذموم کوششیں کی گئیں، لیکن یہ مردِ آہن ، مردِ قلندر اپنے مبنی بر حق تحریکی موقف میں سرمو انحراف کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوسکے اور آج بھی ہندوستان کے فوجی غرور کے سامنے نہ جھکنے، نہ تھکنے اور نہ بکنے کے غیر متزلزل موقف پر قائم ودائم ہے۔ ایسی قیادت عزم بالجزم کے ساتھ اپنے تحریکی اہداف سے منحرف ہونے کا تصور تک بھی اپنے حاشیہ خیال میں بھی نہیں لاسکتی‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز