راج ناتھ سنگھ کا اعلان اطمینان بخش، بات چیت سے ہی مسئلہ کشمیر کا حل نکلے گا: شاہی امام

جامع مسجد دہلی کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے کشمیر میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اعلان کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل اور تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہی ہے۔

Oct 24, 2017 03:38 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 03:39 PM IST

نئی دہلی۔  جامع مسجد دہلی کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے کشمیر میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اعلان کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل اور تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی یہ بات کہتے رہے ہیں کہ کشمیر میں ایک طویل عرصے سے جاری شورش اور تشدد کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اسی لیے ہم نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بات چیت کے سلسلے کا آغاز کریں اور کشمیری عوام کو اذیت ناک صورت حال سے نجات دلائیں۔

خیال رہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل آئی بی کے سابق ڈائرکٹر دنیشور شرما کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کار مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دنیشور شرما ایک سینئر اور سبکدوش آئی پی ایس آفیسر ہیں اور وہ کشمیر میں بھی ایک عرصے تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ امام بخاری نے مزید کہا کہ مسٹر شرما کشمیرکے حالات اور کشمیری عوام کے جذبات اور ان کی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔ لہٰذا امید ہے کہ وہ اس معاملے میں حکمت سے کام لیں گے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ دنیشور شرما پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی اور وہ جس سے چاہے بات چیت کریں کیونکہ حکومت کشمیری عوام کی جائز امنگوں اور خواہشات کو جاننا چاہتی ہے۔

راج ناتھ سنگھ کا اعلان اطمینان بخش، بات چیت سے ہی مسئلہ کشمیر کا حل نکلے گا: شاہی امام

دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری : فائل فوٹو۔

مولانا بخاری نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور حکومت کی جانب سے پہلی بار اٹھایا گیا قدم ہے۔ کشمیر کے عوام ایک طویل عرصے سے تشدد کے شکار ہیں۔ وہاں آئے دن کی ہڑتالوں اور غیر یقینی صورت حال سے معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہے۔ ریاست کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والی سیاحت مائل بہ زوال ہے۔ تعلیم انحطاط کا شکار ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد تعلیمی اداروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت بے روزگار ہے ۔ یہ صورت حال بدلنی چاہیے اور کشمیری عوام کو پر امن زندگی جینے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ یہ بات ہر امن پسند شہری کہتا رہا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر نہ گالی سے حل ہوگا نہ گولی سے بلکہ عوام کو گلے لگانے سے حل ہوگا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے تین سال کے بعد ہی سہی اس بات کو محسوس کیا ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں سے گفتگو کے نتیجے میں ہی مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکلے گا۔

Loading...

نیم فوجی اہلکار نگرانی کرتے ہوئے جبکہ کشمیری لڑکیاں ان کے سامنے سے تیرہ ستمبر دو ہزار سترہ کو سری نگر کے ایک مارکیٹ کی طرف جاتی ہوئیں۔ فوٹو، اے پی، مختار خان۔ نیم فوجی اہلکار نگرانی کرتے ہوئے جبکہ کشمیری لڑکیاں ان کے سامنے سے تیرہ ستمبر دو ہزار سترہ کو سری نگر کے ایک مارکیٹ کی طرف جاتی ہوئیں۔ فوٹو، اے پی، مختار خان۔

شاہی امام نے امید ظاہر کی کہ اب وادی کے حالات بہتر ہوں گے اور عوام کو شورش اور تشدد سے نجات ملے گی۔ ہم ایک بار پھر کہیں گے کہ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو بات چیت سے حل نہ ہو اور ہم نے دیکھا ہے کہ بڑے سے بڑا عالمی مسئلہ بھی بات چیت سے ہی حل ہوا ہے۔ اس لیے مسئلہ کشمیر کو بھی اسی راستے پر چل کر حل کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ حکومت حکمت سے کام لیتے ہوئے اور عوام کے تمام طبقات کو مذاکراتی عمل میں شریک کرتے ہوئے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز