جموں و کشمیر: علامہ اقبال پر لکھی سید علی گیلانی کی کتاب کی رسم اجرا تقریب کو پولیس نے رکوایا

Apr 23, 2017 07:43 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 07:43 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس نے اتوار کے روز گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں واقع تحریک حریت کے صدر دفتر کو چاروں اطراف سے سیل کرکے بزرگ علیحدگی پسند راہنما و حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کی تصنیف کردہ کتاب ’اقبال(رح)...روحِ دین کا شناسا‘کی رسم اجرائی کی تقریب کو منعقد نہیں ہونے دیا۔ مسٹر گیلانی کی کتاب کی ’رسم اجرائی‘ کی یہ تقریب تحریک حریت کے بینر تلے منعقد ہونے والی تھی۔ ریاستی پولیس کی تقریب پر پابندی کے خلاف حیدرپورہ جامع مسجد کے باہر لوگوں نے احتجاج کیا اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

حریت ترجمان ایاز اکبر نے کتاب کی رسم اجرائی کی تقریب پر پابندی کو آزادئ اظہارِ رائے پر پابندی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ پولیس کی اس ایکشن کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز تھا اور نہ اس کی بظاہر کوئی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج مسٹر گیلانی کی تحقیقی نوعیت کی تصنیف ’اقبال(رح)...روحِ دین کا شناسا‘ کی تیسری جلد کی تقریب رونمائی انجام دی جارہی تھی۔ یہ ایک اکیڈمک نوعیت کی سادہ تقریب تھی، جس میں کئی سرکردہ اہل علم مدعو کئے گئے تھے۔ یہ تقریب چار دیواری کے اندر منعقد ہورہی تھی اور اس سے امن وقانون کا مسئلہ پیدا ہونے والا تھا اور نہ ٹریفک کی آوا جاہی میں کوئی خلل واقع ہونے کا خطرہ تھا۔

جموں و کشمیر: علامہ اقبال پر لکھی سید علی گیلانی کی کتاب کی رسم اجرا تقریب کو پولیس نے رکوایا

البتہ یہ سب جانتے ہوئے بھی پولیس نے اس پر پابندی لگادی اور تحریک حریت دفتر اور مسٹر گیلانی کی رہائش گاہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو صبح تڑکے سے ہی سیل کردیا گیا۔ ترجمان کے مطابق تقریب کے انعقاد کے لیے سنیچر شام بازار سے لاکر ایک شامیانہ بھی نصب کیا گیا تھا اور اس پر پولیس نے چونکہ کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، لہٰذا سمجھا گیا تھا کہ تقریب پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ ترجمان نے اس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی اشتراک والی حکومت نے ظلم وجبر کے تمام سابقہ ریکارڈ مات کردیے ہیں اور جس دن سے یہ حکومت برسرِ اقتدار آگئی ہے، وادی کو عملاً فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔

پُرامن سیاسی سرگرمیوں کی کسی بھی طور اجازت نہیں دی جارہی ہے اور لوگوں کے سانس لینے پر بھی پہرے بٹھا دئے گئے ہیں۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ریاست کے حالات دن بدن زیادہ مخدوش ہوتے جارہے ہیں اور سیاسی غیر یقینیت اور عدمِ استحکام میں اضافہ ہورہا ہے۔ آئندہ حالات کیا رُخ اختیار کریں گے، اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ بیان کے مطابق جس سرکردہ شخصیات نے کتاب اجرائی فنکشن پر پابندی کے خلاف مظاہرے میں شرکت کی ان میں بار صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین، الطاف احمد شاہ، محمد یوسف مجاہد، ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی، محمد اشرف لایا، محمد افضل لون، زمردہ حبیب ، شاہ ولی محمد، محمد سعید،غلام مصطفیٰ وانی، مدثر ندوی، رفیق احمد اویسی، مختار احمد صوفی اور عاشق حسین بھی شامل ہیں۔

مسٹر گیلانی کا اپنی اس نئی تصنیف کے بارے میں کہنا ہے ’علامہ اقبال اسلام کے آفاقی پیغام کے ایک داعی تھے اور انہوں نے اپنا پیغام عام کرنے کے لیے شاعری کو ایک ذریعہ بنایا۔ ان کے پیغام کو عام کرنے کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے، جتنی کہ سو سال پہلے تھی۔ میں نے علامہ اقبال (رح) کے فارسی کلام کا اردو میں ترجمہ وتفہیم کرنے کا بیڑا اسی ضرورت کے پیشِ نظر اٹھایا ہے‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز