وادی کشمیر میں دہشت گرد تنظیم داعش کی کوئی موجودگی نہیں : جموں وکشمیر پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید

Nov 19, 2017 09:07 PM IST | Updated on: Nov 19, 2017 09:15 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے عالمی شدت پسند تنظیم داعش کی سری نگر کے مضافاتی علاقہ میں ریاستی پولیس پر حملے کی ذمہ داری سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں داعش کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔یہاں بادامی باغ میں واقع 15 ویں کورپس کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ سیکورٹی عہدیداروں کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں نامہ نگاروں کی جانب سے داعش کے دعوے کے بارے میں پوچھے جانے پر پولیس سربراہ نے کہا ’اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ میں نہیں سمجھتا داعش کی کشمیر میں کوئی موجودگی ہے‘۔

آئی جی پی منیر احمد خان نے زکورہ جھڑپ میں مارے گئے جنگجو کی داعش سے ممکنہ وابستگی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی ابھی تحقیقات چل رہی ہے‘۔ رپورٹوں کے مطابق داعش نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

وادی کشمیر میں دہشت گرد تنظیم داعش کی کوئی موجودگی نہیں : جموں وکشمیر پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید

قابل ذکر ہے کہ شہر کے مضافاتی علاقہ زکورہ میں جمعہ کی سہ پہر جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے ایک مختصر شوٹ آوٹ میں ایک جنگجو اور ایک پولیس سب انسپکٹر ہلاک جبکہ ایک ایس پی او زخمی ہوا۔پولیس سب انسپکٹر کی شناخت عمران ٹاک ساکنہ ادھم پور جموں جبکہ مہلوک جنگجو کی شناخت مغیث احمد میر ساکنہ پارمپورہ (سری نگر) کے بطور ظاہر کی گئی ۔ بعض رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ مغیث جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کی تنظیم انصار الغزوۃ الہند سے وابستہ تھا۔ انصار الغزوۃ الہند عالمی شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ کی ایک ذیلی تنظیم ہے۔

تاہم جنگجو تنظیم تحریک المجاہدین نے پولیس دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغیث تحریک المجاہدین کا ضلع کمانڈر پلوامہ تھا۔ اس جنگجو تنظیم نے زکورہ شوٹ آوٹ کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ تنظیم نے مقامی میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے ’زکورہ جھڑپ میں تحریک المجاہدین کا ضلع کمانڈر پلوامہ مغیث احمد میر عرف عمر بن خطاب کو جاں بحق کیا گیا‘۔تحریک المجاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے مغیث کو جاں بحق کرنے کے بعد اس کی لاش پر داعش کا پرچم ڈال دیا جس کا مقصد کشمیر کی تحریک آزادی کو بدنام کرنا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز