لیڈروں کی گرفتاری سے کشمیری علیحدگی پسند قیادت چراغ پا ، فرضی بنیاد پر گرفتاری کا الزام ، ہڑتال کی کال

Jul 24, 2017 09:17 PM IST | Updated on: Jul 24, 2017 09:17 PM IST

سری نگر: کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے علیحدگی پسند لیڈران کی گرفتاری کے خلاف منگل کو کشمیر بند کی کال دے دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ الطاف احمد شاہ ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، ایاز اکبر ، معراج الدین کلوال اور پیر سیف اللہ کو این آئی اے نے فرضی بنیادوں پر گرفتار کیا ہے۔ علیحدگی پسند قیادت نے گرفتار شدگان کی صحت اور حفاظت کے بارے میں زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کے ساتھ نہ تو کوئی رابطہ ہے اور نہ ان کے بارے میں کوئی جانکاری فراہم کی جارہی ہے۔

ا نہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ہند کے تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کے ذریعے متذکرہ علیحدگی پسند قائدین کی گرفتاری ایک منصوبہ بند طریقے سے عمل میں لائی گئی ہے جس میں پہلے چھاپے ڈالے گئے بعد میں دلی لے جا کر پوچھ تاچھ کی گئی اور اب انہیں گرفتار کیا گیا اور یہ سب ڈرامہ رچانے کا مقصد محض یہ تاثر دینا ہے کہ ان کی گرفتاری ثبوت و شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا ’حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کے خلاف نام نہاد دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کاکوئی واضح ثبوت یا شہادت موجود نہیں ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کو گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ دوران پوچھ تاچھ ہی ان کو این آئی اے کی طرف سے پہلے ہی گرفتار کئے جانے کا عندیہ دیا گیاتھا‘۔

لیڈروں کی گرفتاری سے کشمیری علیحدگی پسند قیادت چراغ پا ، فرضی بنیاد پر گرفتاری کا الزام ، ہڑتال کی کال

انہوں نے کہا ’کشمیر کے عوام اس ڈرامہ کے پیچھے کارفرما مقاصد اور عزائم کو بخوبی جانتے ہیں۔ اب جب کہ عالمی سیاسی حالت کی وجہ سے نئی دلی پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرنے کے لئے مسلسل دباؤ بڑ رہا ہے جبکہ نئی دلی اس حقیقت سے مسلسل انکاری ہے اور کشمیر میں جاری تحریک مزاحمت کو پاکستان کی مدد سے اسلامی دہشت گردی کے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی دباؤ و کم کیا جا سکے اور کشمیری عوام کے سیاسی مطالبات اور امنگوں کی نمائندہ مزاحمتی قیادت اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے آناکانی کی جا سکے۔حکومت ہند محض طاقت کے بل بوتے پر مسئلہ کشمیر کو دبانا چاہتی ہے اور موجودہ گرفتاریاں اسی مقصد سے عمل میں لائی گئی ہیں‘۔

علیحدگی پسند قیادت نے کہا کہ کشمیر کی تحریک عوامی تحریک ہے جوعالمی اصولوں اور انصاف و حق خودارادیت پر مبنی ہے اور جب تک اس تحریک کو عوامی حمایت حاصل ہے جھوٹ کا کوئی پلندہ یا پروپگنڈہ اس تحریک کی حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا ۔ انہوں نے کہا ’دباؤ اور ہراساں کرنے کے ان حربوں سے نہ تو تحریک کمزور ہو سکتی ہے اور نہ ہی قیادت کے تحریک کے تئیں عزم کوختم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کی آزادی کی تحریکیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ایسی تحریک کی راہ میں مشکلات اور مصائب کا سامنا قدم قدم پر رہتا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’یہ تمام تحریک نواز قائدین اور کارکنان ہمیشہ تحریک کے صفوں میں آگے آگے رہے ہیں اور قیادت کو ہر مرحلے پر اپنا بھر پور تعاون دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو تحریک کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی کی بنا پر نشانہ بنایا جارہا ہے‘ ۔ مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے علیحدگی پسند قائدین کی گرفتاری کو جارحانہ اور انتقام گیرانہ ہتھکنڈہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کے لئے 25 جولائی کو پورے جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی کال دے دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز