کشمیر: پولیس حراست سے فرار ہونے والا نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ، جاری کیا ویڈیو

May 15, 2017 10:14 AM IST | Updated on: May 15, 2017 10:14 AM IST

سری نگر : جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں پولیس کی حراست سے فرار ہونے والے نوجوان زبیر احمد ترے نے جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بونہ بازار شوپیان کے رہنے والے زبیر نے گذشتہ شام دیر گئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر قریب پانچ منٹ طویل ویڈیو بیان جاری کرکے حزب المجاہدین میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کردیا۔ زبیر جس کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان ہے، نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ چار برسوں تک مسلسل جیل میں مقید رہا جس کے دوران اس پر ایک کے بعد ایک 8 مرتبہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کا اطلاق کیا گیا۔ اور جب اسے کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آیا تو اس نے مجبوراً پولیس کی حراست سے بھاگ کر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔

خیال رہے کہ قصبہ شوپیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں 11 سے 14 مئی مسلسل چار دنوں تک زبیر کی زیر حراست گمشدگی کے خلاف ہڑتال رہی۔ مقامی لوگوں کا الزام تھا کہ پولیس نے زبیر کو دورانِ حراست غائب کردیا۔ تاہم اتوار شام دیر گئے اہلیان وادی بالخصوص اہلیان شوپیان اُس وقت ششدر ہوکر رہ گئے جب زبیر احمد کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک پر نمودار ہوئی۔ زبیر کو مذکورہ ویڈیو میں فوجی وردی زیب تن کئے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

کشمیر: پولیس حراست سے فرار ہونے والا نوجوان حزب المجاہدین میں شامل ، جاری کیا ویڈیو

ویڈیو میں زبیر کے آگے ایک میز دیکھی جاسکتی ہے جس پر کچھ ہتھیاروں کے علاوہ دو ہینڈ گرینیڈس کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ زبیر ویڈیو میں اپنی بات کا آغاز قرآنی آیات سے کرنے کے بعد اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے کے اسباب بیان کرتا ہے۔  زبیر ویڈیو بیان میں اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہتا ہے ’میرا نام زبیر احمد ترے ہے۔ میرے والد محترم کا نام بشیر احمد ترے ہے اور میں ضلع شوپیان کا رہنے والا ہوں‘۔ جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے کے اسباب بیان کرتے ہوئے زبیر کہتا ہے ’میں وہی مظلوم کشمیری ہوں، جو کچھ دن پہلے پولیس کی حراست سے فرار ہوا۔ میرے فرار ہونے کے اسباب بہت دردناک ہیں۔ مجھے غلامی اور سامراجی طاقت نے فرار ہونے پر مجبور کیا۔ میرے لئے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ میں گذشتہ چار برسوں سے مقید تھا۔ ان چار برسوں کے دوران مجھ پر 8 مرتبہ پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا۔ جب بھی میرے والد نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاکر میرا پی ایس اے کالعدم کروایا، جس کے لئے انہیں نہ صرف غیرمعمولی تگ و دو کرنی پڑتی تھی بلکہ بڑی بڑی مصیبتیں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن جیل میں چار برسوں تک بند رہنے کے دوران مجھ پر ایک کے بعد ایک پی ایس اے کے اطلاق کا سلسلہ جاری رہا۔

جب ہائی کورٹ میرا پی ایس اے کالعدم قرار دیتا تھا تو اس کے بعد مجھے غیرقانونی طور پر تین ماہ تک جیل میں بند رکھا جاتا تھا اور اس کے بعد ایک اور پی ایس اے کا اطلاق کیا جاتا تھا‘۔ زبیر نے ویڈیو بیان میں کہا ہے ’جب مجھے کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو نے مجاہدوں (جنگجوؤں) کی صفوں میں شمولیت اختیار کی‘۔ شوپیان میں مسلسل چار دنوں تک جاری رہنے والی ہڑتال کا ذکر کرتے ہوئے زبیر نے کہا ’میں شوپیان کے غیور اور خوددار عوام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کی‘۔

زبیر نے ویڈیو میں اپنے والد بشیر احمد ترے سے مخاطب ہوکر کہا ہے ’میں اپنے والد محترم سے کہتا ہوں کہ آپ پریشان مت ہونا اور اللہ کے کرم سے میں بالکل ٹھیک ہوں‘۔ رپورٹوں کے مطابق زبیر کو پتھراؤ کے واقعات میں ملوث رہنے کے الزام میں سال2014 میں پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے لیکر اب تک وہ جیل میں ہی مقید تھے۔ پی ایس اے جس کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2011 میں ایک غیرقانونی قانون قرار دیا، کے تحت عدالتی پیش کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم تین ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ قصبہ شوپیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں 11 سے 14 مئی مسلسل چار دنوں تک زبیر کی زیر حراست گمشدگی کے خلاف ہڑتال رہی۔ تاہم پولیس نے پہلے ہی کہا تھا کہ زبیر یکم مئی کو پولیس چوکی ’کیگام‘ سے فرار ہوگیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز