امرناتھ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کشمیر میں کشمیریت کے زندہ ہونے کا ثبوت: محبوبہ مفتی

Jul 13, 2017 04:05 PM IST | Updated on: Jul 13, 2017 04:10 PM IST

سری نگر۔ جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وادی کشمیر میں مختلف طبقہ ہائے فکر کی طرف سے یک زبان ہوکر امرناتھ یاتریوں پر ہوئے حملے کی مذمت کرنے سے پوری دنیا تک یہ پیغام پہنچا ہے کہ کشمیر میں کشمیریت ابھی زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان وادی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایسی کسی بات یا عمل کو برداشت نہیں کریں گے جس کا مقصد کشمیریت کو نقصان پہنچانا ہو۔ محترمہ مفتی نے جمعرات کو دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں واقع مزار شہداء خواجہ نقشبند صاحب میں 13 جولائی 1931 ء کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں کہا ’آج اہلیان جموں وکشمیر کو اِن شہیدوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے یہاں جمہوری حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایک خوشحال جموں وکشمیر جس میں کشمیریت ہمارا بنیادی اصول ہے۔

حال ہی میں امرناتھ یاتریوں پر حملے کے بعد ہم سب اکٹھے ہوگئے۔ الگ الگ نظریہ رکھنے والے لوگوں نے ایک جٹ ہوکر اس کی مذمت کی۔ اس طرح پوری دنیا کو ایک بار پھر پیغام دیا کہ کشمیر میں کشمیریت ابھی زندہ ہے۔ وہ کسی بھی ایسی بات کو برداشت نہیں کریں گے جو کشمیریت کے خلاف ہو‘۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی کی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے۔ کراس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 6 یاتریوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ وادی میں تمام لوگوں بشمول علیحدگی پسند قائدین نے یاتریوں پر ہوئے حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ مختلف سول سوسائٹی گروپوں نے سری نگر کی پرتاب پارک میں جمع ہوکر یاتریوں کی ہلاکت کے خلاف دھرنا دیکر احتجاج کیا۔

امرناتھ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کشمیر میں کشمیریت کے زندہ ہونے کا ثبوت: محبوبہ مفتی

جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جمعرات کو دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں واقع مزار شہداء خواجہ نقشبند صاحب میں 13 جولائی 1931 ء کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے۔ تصویر یو این آئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز