کٹھوعہ آبروریزی وقتل کیس : ہائی کورٹ کا گواہوں کو ہراساں کرنے کے معاملہ میں کرائم برانچ کے ممبران کو نوٹس

کٹھوعہ آبرو ریزی وقتل معاملہ میں آئے دن نئے معاملات سامنے آرہے ہیں۔

Aug 09, 2018 06:39 PM IST | Updated on: Aug 09, 2018 06:39 PM IST

جموں: کٹھوعہ آبرو ریزی وقتل معاملہ میں آئے دن نئے معاملات سامنے آرہے ہیں۔ اس مقدمہ کے تین گواہان کے جموں وکشمیر کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ممبران کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے ، جس پر عدالت عالیہ نے جموں وکشمیر سرکار سے بذریعہ کمشنر سیکریٹری برائے محکمہ امور داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔

رٹ پٹیشن سچن شرما، نیر ج شرما اور ساہل شرما نامی افراد جوکہ کٹھوعہ آبروریزی وقتل مقدمہ کے گواہ ہیں، نے دائر کی ہے ، جنہوں نے الزام عائد کیاکہ کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ممبران نے ان سے زبردستی بیان لیا۔ بیان لینے کے لئے کرائم برانچ ممبران نے انہیں جسمانی طور ٹارچر اور ذہنی طور پر ہراساں کیا ۔ نیز ناشائستہ الفاظ کا استعمال کیا۔ ان سے زبردستی جھوٹا بیان دلوایاگیا۔

کٹھوعہ آبروریزی وقتل کیس : ہائی کورٹ کا گواہوں کو ہراساں کرنے کے معاملہ میں کرائم برانچ کے ممبران کو نوٹس

علامتی تصویر

عرضی میں مدعیان نے کہاکہ انہوں نے جج کے سامنے دفعہ164ضابطہ فوجداری کے تحت بیانات بھی قلمبند کرائے ہیں ، جس میں انہوں نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ سانجی رام اور ویشال جنگوترہ کے خلاف جھوٹا بیان دینے کے لئے انہیں ہراساں کیاگیا اور تھرڈ ڈگری ٹارچر کیاگیا۔ عرضی میں مدعیان نے ٹاچر کرنے پر کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ممبران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز