این جی ٹی کی دہلی حکومت کو پھر سے پھٹکار، کہا، حکومت مثبت قدم کیوں نہیں اٹھاتی؟

Nov 14, 2017 04:52 PM IST | Updated on: Nov 14, 2017 04:52 PM IST

نئی دہلی۔  دہلی سرکار نے طاق-جفت فارمولہ کو لاگو کرنے کے قومی گرین ٹربیونل ( این جی ٹی) کے مشروط حکم کے خلاف دائر نظر ثانی پٹیشن آج واپس لے لی۔ نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کے دوران نیشنل گرین ٹریبونل نے دہلی حکومت کو پھر سے پھٹکار لگاتے ہوئے کئی سوال پوچھے۔ این جی ٹی نے ہفتہ کو طاق -جفت فارمولہ کو نافذ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے دو پہیہ گاڑیوں، خواتین اور سرکاری ملازمین کو بھی اس میں شامل کرنے کی شرط رکھی تھی۔

حکومت نے 13 نومبر سے پانچ دنوں کے مجوزہ طاق -جفت فارمولہ کو ملتوی کرتے ہوئے این جی ٹی کے سامنے دو پہیہ گاڑیوں اور خواتین کو چھوٹ دینے کے لئے کل ہی نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ دہلی حکومت کا کہنا تھا کہ خواتین کی حفاظت کے پیش نظر انہیں رعایت دی جانی چاہئے۔ ٹریبونل نے نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی حکومت سے سوال کیا کہ وہ آڈ-ایون فارمولہ کے دوران خواتین کے لئے الگ سے بس کیوں نہیں چلا سکتی ہے؟ ٹریبونل نے دو پہیہ گاڑیوں کے سلسلے میں دہلی حکومت سے پوچھا کہ جب جائزےکے مطابق چار پهيہ گاڑیوں کے مقابلے میں دو پہیہ گاڑیاں زیادہ آلودگی پھیلاتی ہیں، تو حکومت منمانی کرتے ہوئے انہیں چھوٹ دینے پر کیوں بضد ہے؟۔ اس سے کیا فائدہ ہونے والا ہے۔

این جی ٹی کی دہلی حکومت کو پھر سے پھٹکار، کہا، حکومت مثبت قدم کیوں نہیں اٹھاتی؟

ٹربیونل نے دہلی حکومت کی درخواست پر کہا کہ "حکومت چھوٹ دینے کی بجائے مثبت قدم کیوں نہیں اٹھاتی ہے؟" پچھلی بار حکومت نے کہا تھا کہ وہ چار ہزار بسیں خرید رہی ہے، اس کا کیا ہوا؟

ٹربیونل نے دہلی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ طاق-جفت فارمولہ میں رعایت کے لئے اس کے سامنے اسی وقت آئے جب ان کے پاس معقول اسباب و حقائق ہوں۔  این جی ٹی نے پوچھا کہ حالات بگڑنے سے پہلے اس سے نمٹنے کے لئے آپ کے پاس کیا تدابیر ہیں؟ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئيں کہ پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کی سطح جب 48 گھنٹے کے دوران خطرے کی سطح سے بڑھ جائے تو اسے روکنے کے اقدامات خود بخود نافذ ہوجائيں۔ دہلی اور قومی راجدھانی خطہ میں آلودگی کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ عدالت نے کل معاملے پر سماعت کے بعد مرکزی حکومت، دہلی حکومت ، اتر پردیش، ہریانہ اور پنجاب سمیت دہلی کے تینوں کارپوریشنوں کو نوٹس جاری کیا تھا اور آلودگی سے نمٹنے کے اقدامات کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں۔

ٹربیونل نے دہلی حکومت کی درخواست پر کہا کہ "حکومت چھوٹ دینے کی بجائے مثبت قدم کیوں نہیں اٹھاتی ہے؟" پچھلی بار حکومت نے کہا تھا کہ وہ چار ہزار بسیں خرید رہی ہے، اس کا کیا ہوا؟

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز