ہادیہ معاملہ میں این آئی اے کو جھٹکا: سپریم کورٹ نے شوہر کے ساتھ رہنے کی دی اجازت

کیرالہ کے مبینہ لو جہاد کیس میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ہادیہ اور شافعین جہاں نے باہمی رضامندی سے شادی کی تھی اور اسے منسوخ کرنے کا ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط تھا۔

Jan 23, 2018 12:25 PM IST | Updated on: Jan 23, 2018 03:02 PM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے ) کو آج زبردست جھٹکا دیتے ہوئے کیرالہ کے مبینہ لو جہاد ہادیہ معاملے میں واضح کردیا کہ ہادیہ بالغ ہے اور اسے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرنے کا پورا حق ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی سہ رکنی بینچ نے کہا کہ ہادیہ بالغ ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کرسکتی ہے۔ اس لئے ایجنسی اس کے نکاح کی موزونیت کی جانچ نہیں کرسکتی ۔

بینچ نے کہا کہ جب لڑکا اور لڑکی یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا نکاح ہوا ہے تو اس کی جانچ نہیں ہوسکتی۔ سپریم کورٹ نے لو جہاد معاملے پر ایجنسی کی جانچ کا حکم واپس لینے کے سلسلے میں کچھ بھی نہ کہتے ہوئے اگلی سماعت کی تاریخ 22فروری طے کی ہے۔

ہادیہ معاملہ میں این آئی اے کو جھٹکا: سپریم کورٹ نے شوہر کے ساتھ رہنے کی دی اجازت

آج ہی اس معاملے میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئی ہادیہ نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کی عدالت نے اجازت دے دی۔ فائل فوٹو۔ سی این این۔ نیوز ۱۸۔

کیرالہ کی اکھیلا نام کی لڑکی نے مذہب اسلام قبول کرکے شفین کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ بیٹی کے نکاح کرنے کے بعد لڑکی کے والد اشوکن اے ایم نے لڑکی کے مذہب بدل کر نکاح کرنے کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے اس نکاح کو منسوخ کردیا تھا۔ نکاح منسوخ کئے جانے کے بعد ہادیہ کے شوہر شفین نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ہادیہ کے شوہر پر دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ سے تعلق ہونے کا الزام ہے۔24سالہ ہادیہ نے گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شفین کے ساتھ نکاح کیا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز