خلفائے راشدین کی عظمت اور فضائل کا اقرارایمان کا بنیادی جزء: مولانا محمد رحمانی مدنی

Oct 06, 2017 07:00 PM IST | Updated on: Oct 06, 2017 07:00 PM IST

نئی دہلی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرے بعد تم بہت زیادہ اختلاف پاؤ گے لہذا اس اختلاف وانتشار کے دور میں تم لوگ میری سنت کو لازم پکڑنا اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو بھی اختیار کرنا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں خلفائے راشدین کو ہدایت یافتہ خلفاء قرار دیا ہے، ابوبکر، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین وہ شخصیات ہیں جنہیں اسلامی تاریخ کا سورج کہا جا سکتا ہے، ان کے بے شمار فضائل ہیں ، انہوں نے آپس میں میل ومحبت کے ساتھ رشتہ داریاں کیں، دین اسلام کے لئے قربانیاں پیش کیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی جان ومال سب کچھ قربان کردیا۔ ان پر یا کسی بھی صحابی رسول پر اگر کوئی تنقید کرتا ہے یا ان میں سے کسی کی توہین کرتا ہے یا مذاق اڑاتا ہے تو وہ کامل مومن ہوہی نہیں سکتا۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔ مولانا موصوف خلفائے راشدین کے فضائل سے متعلق قرآن وسنت میں وارد دلائل کی روشنی میں گفتگو فرمارہے تھے۔

خلفائے راشدین کی عظمت اور فضائل کا اقرارایمان کا بنیادی جزء: مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

مولانا نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کی روشنی میں قرآن مجید کی آیت کریمہ کی تفسیر پیش کی جس میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو غار ثور میں دو میں کا دوسرا قرار دیا گیا ہے اور اللہ رب العالمین تیسرا ہے جو ان لوگوں کو دشمنوں سے تحفظ فراہم کررہا ہے۔ ایک اور حدیث کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اللہ رب العالمین نے ایک آدمی کو دنیا کی تمام نعمتوں اور آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے منتخب کرنے کا اختیار دیا تو اس شخصیت نے آخرت کو چن لیا یہ سنتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ روپڑے کیوں کہ اس سے وہ خود ہی مراد تھے۔ خطیب محترم نے ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مزید فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ان کے خلیفہ بننے سے متعلق بہت سے اشارے کئے تھے، اپنی زندگی ہی میں ان کو امامت کے لئے بڑھایا، مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازے بند کرا دیئے صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ باقی رکھا اور فرمایا کہ اگر میں دنیا میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے اور میرا سب سے زیادہ ساتھ دینے والے ابوبکر صدیق ہیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کرتے تھے۔

مولانا موصوف نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر بعض صحابہ کرام کے فضائل کا تذکرہ کیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ صحابہ کرام کی عظمت اور فضائل کو اپنے دل ودماغ میں جان گزیں کرلیں اور اس کو ایمان کی بنیاد بنائیں۔ اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز