سلفیت امن وسلامتی کو قائم کرنے اوردہشت گردی کے خاتمہ کا سب سے بنیادی ذریعہ: مولانا محمد رحمانی

Feb 03, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Feb 03, 2017 09:19 PM IST

نئی دہلی ۔’’ قرآن مجید اورسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابۂ کرام کے فہم پر سمجھنے اوراپنی زندگی میں نافذ کرنے کا نام سلفیت ہے،جماعت اہل حدیث اسی اصول کو اپناتی اوراسی تعبیر کو پیش کرتی ہے ۔ بعض لوگوں کی کوتاہی اوردین کو صحیح سے نہ سمجھ پانے اوردین کی غلط تعبیر کرنے کی وجہ سے پورے اسلام یا پورے مسلک اورجماعت کو بدنام نہیں کیاجاسکتا ۔ ہرمذہب اورہرمسلک میں کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنی غلط حرکتوں کی وجہ سے بدنما داغ بن جاتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر پورے مذہب یامسلک کو نشانہ بنا لیاجائے۔سلفیت نرم دلی  رحمت اوراچھے برتاؤ کی داعی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العالمین نے سارے جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا اورفرمایا کہ اگر آپ سخت دل ہوتے تو غریب صحابۂ کرام آپ کے گرد جمع نہ ہوتے یہی اسلوب قرآن وسنت اورصحابۂ کرام کے منہج کو ماننے والے سلفیوں کا بھی ہونا چاہئے‘‘۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کے اعلیٰ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کی جامع مسجد عمربن خطاب میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا اسلام کے نظام امن اورسلفیت پر دہشت گردی کے اتہام سے متعلق خطاب فرما رہے تھے۔

خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ سلفی منہج کے ماننے والوں نے سب سے پہلے خوارج کو اسلام سے خارج مانا اورآج دہشت گردی کی جڑ خوارج ہی ہے،اسی طرح داعش اورالقاعدہ کی فکر کو بھی سب سے پہلے غیراسلامی اورغیرانسانی قراردینے والے دراصل اہل حدیث علماء ہی ہیں ۔ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر۳۳ کے مطابق زمین میں فساد پھیلانے والوں اوردہشت گردی کرنے والوں کے ہاتھ اورپیر مخالف جہات سے کاٹ دیئے جانے چاہئے اورانہیں شہر بدر کردیاجانا چاہئے۔ مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ سلفیت کو آج جدید اورانگریزوں کی ایجاد کہاجاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صحابۂ کرام بھی اپنے آپ کو سلفی اوراہل حدیث کہتے تھے،علامہ بشاری مقدسی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب’’ أحسن التقاسیم فی معرفۃ البلاد والاقالیم‘‘میں لکھتے ہیں کہ ۳۷۵ھ میں جب وہ برصغیر آئے تو انہوں نے یہاں صرف اہل حدیث مسلک پایا،کسی امام کا کوئی مقلد یہاں نہیں تھا۔مولانا رحمانی نے مزید فرمایا کہ توحید اوراتباع رسول پر جو جتنا کاربند ہے وہ امن وسلامتی کا اتنا بڑا داعی ہے کیوںکہ قرآن وسنت ایک ضابطہ پر انسانیت کو کھڑا کرتے ہیں اورایک ضابطہ جو دھوکہ اوربے چینی کے اسباب سے پاک ہو اورعدل وانصاف کا داعی ہو وہ انسانیت سے بے چینی اورانتشار کو ختم کرتاہے اوراتحاد پیداکرتاہے اوریہی اتحاد اصل میں امن وسلامتی کا بنیادی ضابطہ ہے جب کہ مختلف شخصیات کی پیروکاری اورالگ الگ ضابطہ بنا لینے سے یہ اتحاد پارہ پارہ ہوتاہے اورانتشار بڑھتاہے اوراس کی وجہ سے امن وسلامتی مفقود ہوتی ہے۔

سلفیت امن وسلامتی کو قائم کرنے اوردہشت گردی کے خاتمہ کا سب سے بنیادی ذریعہ: مولانا محمد رحمانی

خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ اسلام تو پانی کی فضول خرچی کو بھی حرام کرتاہے ،بے جا جانور ذبح کرنا اورذبح کرنے میں غلط طریقہ اختیار کرکے جانور کے لئے تکلیف پیداکرنا بھی اسلام میں جائز نہیں ،ثمردار درخت کو کاٹنا اوربچوں یاعورتوں یابوڑھوں کو عین میدان جنگ میں بھی قتل کرنا حرام ہے،اہل کتاب یا اسلام دشمن اگر اپنی عبادات میں مصروف ہیں تو اسلام نے ان کو بھی چھیڑنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

اخیر میں اسلام اورسلفیت کی صحیح تعبیر پیش کرنے کی اپیل اورآپسی اتحاد واتفاق پیداکرنے پر زور دیتے ہوئے دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز