پرائیویسی و ذاتی آزادی اہمیت کی حامل ، مگر سیکورٹی اور ملک کے مفاد سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں : کرن رجیجو

مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ کرن رجیجو نے آج کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ پرائیویسی اور ذاتی آزادی بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن جب بات ملک کے مفاد اور ملک کی سیکورٹی پر آ جائے تو اس سے اہم کچھ نہیں رہ جاتا۔

Aug 31, 2017 10:14 PM IST | Updated on: Aug 31, 2017 10:14 PM IST

نئی دہلی : مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ کرن رجیجو نے آج کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ پرائیویسی اور ذاتی آزادی بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن جب بات ملک کے مفاد اور ملک کی سیکورٹی پر آ جائے تو اس سے اہم کچھ نہیں رہ جاتا۔  مسٹر رجیجو نے یہاں آج 'سائبر اور نیٹ ورک سیکورٹی' موضوع پر صنعتی تنظیم 'ایسو چیم' کے زیر اہتمام منعقد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا' یہ میری ذاتی سوچ ہے کہ جب بات ملک کی سلامتی پر آ جائے تو ملک کا مفاد ہر چیز پر بھاری پڑتا ہے۔

انہوں نے قانون اور پالیسیاں طے کرنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار کا معاملہ بتاتے ہوئے كها' ملک کی عوام نے ہمیں اس کے لئے منتخب کیا ہے۔ قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل ہماری سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اس پورے منظر نامے میں ہم سمجھتے ہیں کہ اگر بنیادی حقوق دیئے جائیں تو اس کے ساتھ کچھ بنیادی فرائض بھی بنتے ہیں۔ '

پرائیویسی و ذاتی آزادی اہمیت کی حامل ، مگر سیکورٹی اور ملک کے مفاد سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں : کرن رجیجو

وزیر داخلہ نے سائبر جنگ کے تناظر میں ہندوستان کی تکنیکی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سائبر جرائم سے نمٹنے کی تیاریوں کے سلسلے میں سیکورٹی سے وابستہ حکام کے ساتھ اب تک انهوں نے جتنی بھی بات چیت کی ہے ان کا یہی نتیجہ نکلا ہے کہ اس سمت میں ملک جتنا زیادہ آگے بڑھ رہا ہے، خطرات بھی اتنے ہی زیادہ بڑھ رہے ہیں۔

مسٹر رجیجو نے کہا کہ وہ ملک کی تكنيكی صلاحیت پر سوال نہیں اٹھا رہے بلکہ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سائبر جرائم سے نمٹنے کی ملک کی اصل صلاحیتوں اور تیاریوں کے درمیان کافی فاصلہ بنا هوا ہے جسے پاٹنے کی ضرورت ہے۔  انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں حکومتیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنی سطح پر کام کر رہی ہیں لیکن صرف سرکاری کوششوں سے اس خطرے کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اس کے لئے نجی شعبے خاص طور پر صنعتی دنیا کو بھی ہاتھ بٹانا ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز