جانیے، سہارنپور میں کیوں 180 دلت خاندانوں نے اپنا لیا بدھ مت

May 19, 2017 09:11 AM IST | Updated on: May 19, 2017 09:11 AM IST

سہارنپور۔ سہارنپورمیں ہوئے تشدد کے بعد چرچا میں آئی بھیم آرمی پر فساد پھیلانے کا الزام لگ رہا ہے۔ اسی سے ناراض تین گاؤں کے 180 خاندانوں نے اجتماعی طور پر ہندو مذہب ترک کر بدھ مت اپنا لیا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ پولیس انتظامیہ بھیم آرمی کو بدنام کرنے کے لئے سازش کے تحت فساد پھیلانے کا الزام لگا رہی ہے۔

بتا دیں، کہ سہارنپور تشدد کے بعد گاؤں روپڑی، ايگری اور كپورپور کے 180 خاندانوں نے اجتماعی طور پر بدھ مت اپنا لیا ہے۔ انہوں نے دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں نہر میں بہا دیں۔ وہ پولیس انتظامیہ پر ہراساں کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ موقع پر پہنچے پولیس افسران نے دلتوں کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن بات نہیں بنی۔ دلتوں نے خبردار کیا کہ اگر بھیم آرمی کے گرفتار دلتوں کو نہیں چھوڑا گیا تو تمام دلت ہندو مذہب ترک کر بدھ مت اپنا لیں گے۔

جانیے، سہارنپور میں کیوں 180 دلت خاندانوں نے اپنا لیا بدھ مت

كپورپور گاؤں کے رہنے والے دیپک نے الزام لگایا کہ پولیس انتظامیہ جان بوجھ کر دلتوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے لیڈر اور بھیم آرمی کے بانی چندرشیکھر آزاد کے خلاف سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

dalit saharanpur2

گاؤں والوں نے پولیس افسران کو تحریری طور پر کہا کہ دلت ہندو مذہب میں محفوظ نہیں ہیں۔ وہیں گاؤں والوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے فسادات میں ملزم بنائے گئے دلتوں کو جلد نہیں چھوڑا تو ضلع کے سارے دلت بدھ مت اپنا لیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز