کلبھوشن جادھو کیس : عالمی عدالت میں هریش سالوے کی 10 دلیلیں، جس نے پاکستان کو کردیا بے نقاب

May 15, 2017 08:24 PM IST | Updated on: May 15, 2017 08:27 PM IST

نئی دہلی : انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، آئی سی جے میں كلبھوش جادھو کے معاملہ میں پیر کو سماعت ہوئی۔ پہلے ہندوستان نے اپنا موقف رکھا اور پھر اس کے بعد پاکستان نے اپنا موقف پیش کیا ۔ ہندوستان کی جانب سے ہریش سالوے نے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ اگر جادھو کو پھانسی دی جاتی ہے تو یہ جنگی جرائم کے برابر تصور کیا جائے گا۔

جبکہ پاکستان کی جانب سے دلیل دی گئی ویانہ کنونشن کے تحت عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار محدود ہے اس لیے کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں چلایا جا سکتا ۔ لہٰذا عالمی عدالت ہندوستان کی درخواست مسترد کرے۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ کل بھوشن نے دہشت گردی اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا، اس کے پاس 2 سے 3 پاسپورٹ تھے ، لیکن ہندوستان نے کلبھوشن کے پاسپورٹ کے معاملہ پر خاموشی اختیار رکھی جب کہ ہندوستان کو کل بھوشن کے پاس موجود پاسپورٹ کی کاپی بھی دی گئی ، جس پر اس کا مذہب مسلمان نام لکھا ہوا تھا۔

کلبھوشن جادھو کیس : عالمی عدالت میں هریش سالوے کی 10 دلیلیں، جس نے پاکستان کو کردیا بے نقاب

پڑھیں آئی سی جے میں ہندوستان نے کیا کیا کہا ؟

ہندوستان سمجھتا ہے کہ جادھو کے معاملہ میں پاکستان کی فوجی عدالت کا فیصلہ مضحکہ خیز اور ناجائز ہے اور اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کورٹ نے سماعت کے دوران كلبھوش کو اپنے دفاع میں وکیل دینے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے پاکستان کے سامنے جادھو کے لئے کئی مرتبہ کونسلر رسائی کا مطالبہ کیا ، لیکن پاکستان نے لگاتار ہندوستان کے مطالبات کو ٹھکرا دیا۔

معصوم ہندوستانی شہری جادھو پر پاکستان من گھڑت الزام لگا کر ایک سال سے زیادہ عرصہ سے جیل میں رکھا ہوا ہے۔ ویانا معاہدے کے تحت حقوق اور تحفظ فراہم کرنے کی دفعات کا کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔ اس کا موقف سنے بغیر ہی اسے پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔

ہندوستان کے قونصلر رسائی کے مطالبہ کو پاکستان مسلسل مسترد کرتا رہا اور جادھو کی سماعت سے وابستہ کوئی بھی دستاویز اسلام آباد نے ہندوستان کو نہیں سونپے۔

كلبھوش جادھو تک قونصلر رسائی کی سبھی درخواست کو پاکستان نے مسلسل نظر انداز کیا۔

کسی بھی کیس میں انسانی حقوق اس کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جادھو کے کیس میں انسانی حقوق کی پاکستان نے دھجیاں اڑا دیں ۔

پاکستانی فوج کی حراست میں رہنے کے دوران لئے گئے قبول نامہ کی بنیاد پر جادھو کو مجرم قرار دیا گیا۔

یہ صاف ہے کہ جادھو کو اپنے دفاع کے لئے وکیل تک رکھنے کا حق نہیں ملا۔ قانونی فیصلہ آنے سے پہلے ہی جادھو کو پھانسی دیے جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

قونصلر حکام کی کئی مرتبہ درخواست کے باوجود پاکستان نے جادھو کی سماعت سے وابستہ چارج شیٹ یا کوئی بھی حقیقت یا معلومات مہیا نہیں کرائی ہے۔

جادھو کو اب بھی کوئی کاونسل رسائی یا ان کا موقف رکھنے کے لئے کوئی وکیل نہیں دیا گیا ہے۔ اس بات کی معلومات نہیں ہے کہ جادھو پاکستانی کورٹ میں رحم کی درخواست دیں گے یا نہیں۔ اگر بحریہ کےسابق افسر کو پھانسی دی جاتی ہے ، تو پاکستان جنگی جرائم کا مجرم تصور کیا جائے گا۔

كلبھوش جادھو کے کنبہ کی ویزا کی درخواست اب بھی قبول نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز