وشواس اور کیجریوال کے درمیان بڑھا فاصلہ، منیش سسودیا نے کیا جوابی حملہ

May 02, 2017 06:28 PM IST | Updated on: May 02, 2017 07:41 PM IST

نئی دہلی۔ ایم سی ڈی انتخابات میں شکست کے بعد عام آدمی پارٹی میں اندرونی اختلاف کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ منگل کو پہلے کمار وشواس نے جہاں پریس کانفرنس کر امانت اللہ خان کے معاملے پر پارٹی قیادت پر حملہ بولا، وہیں اس کے ٹھیک بعد دہلی کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا نے بھی میڈیا کے سامنے آکر وشواس کو نصیحت کر ڈالی۔ سسودیا نے بھی اشاروں-اشاروں میں وشواس پر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا۔ اب تک کمار وشواس بمقابلہ امانت اللہ کے درمیان نظر آرہی یہ لڑائی اب وشواس بمقابلہ اروند کجریوال کا رخ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔

سسودیا نے کمار وشواس پر ٹی وی پر بیان دے کر پارٹی کارکنوں کا حوصلہ توڑنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی تحریک کے لئے پولیس کی لاٹھیاں کھانے والے کارکنوں کی ہے، نہ کہ کسی شخص کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیجریوال کی بھی پارٹی نہیں ہے۔ سسودیا نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہو تو اسے ذاتی لڑائی نہیں بنانی چاہئے۔ انہوں نے کہا، 'اروند جی نے تین تین گھنٹے بیٹھ کر بات کی ہے اپنے گھر پر۔ انہیں پی اے سی میں بلایا، وہ پی اے سی میں نہیں آئے۔ ٹی وی پر بیان بازی کر رہے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں ان سے کہ ٹی وی پر بیان بازی سے کارکنوں کا حوصلہ ٹوٹ رہا ہے۔ یہ کارکن پولیس سے پٹے ہیں۔ یہ کارکن جیل گئے ہیں۔ ان کارکنوں کا حوصلہ ایسی باتوں سے ٹوٹ جاتا ہے کہ پارٹی کے لیڈر پی اے سی میں بات نہیں کرتے ہیں، ٹی وی پر بیان بازی کرتے ہیں۔ '

وشواس اور کیجریوال کے درمیان بڑھا فاصلہ، منیش سسودیا نے کیا جوابی حملہ

اتنا ہی نہیں، سسودیا نے بھی خود اشاروں-اشاروں میں وشواس پر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، 'ٹی وی پر بیان دے دے کر کس پارٹی کو، کن لوگوں، کن طاقتوں کو کس طرح فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، یہ کارکن سمجھ رہے ہیں۔ اس سے کوئی حل نہیں ہو گا ... میں ان سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ پارٹی کے فورم پر آئیں۔

اس سے پہلے، ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کے الزامات کے جواب میں کمار وشواس منگل کو خود ہی میڈیا کے سامنے آئے اور کہا کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ وشواس نے ساتھ ہی صاف کیا کہ وہ 'ہم بھارت کے لوگ' ویڈیو پر معافی نہیں مانگیں گے۔ وشواس نے اس کے ساتھ ہی پارٹی سے الگ ہونے کے اشارے بھی دیے۔ انہوں نے کہا کہ آج رات تک کوئی بڑا فیصلہ لیں گے۔ غازی آباد میں اپنے گھر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وشواس امانت اللہ پر کارروائی نہ ہونے سے ناراض نظر آئے۔

وشواس نے کہا کہ امانت اللہ نے انہیں بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنٹ بتایا۔ ایسا اگر کیجریوال اور منیش سسودیا کے خلاف بولا جاتا، تو اسے فوری طور پر پارٹی سے نکال دیا جاتا۔ اس دوران جذباتی ہوئے وشواس نے امانت اللہ کو مکھوٹا بتاتے ہوئے کہا، 'کل (پیر کو) اس نے (امانت اللہ) جب دوبارہ بولا تو مجھے لگا کہ یہ مکھوٹا ہے اور اس کے پیچھے سے کوئی اور بول رہا ہے۔' انہوں نے کہا کہ آج رات (منگل) کو وہ اپنے آگے کے اقدامات کے بارے میں کوئی فیصلہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہا کہ 6-7 سال پہلے انہوں نے، منیش سسودیا اور اروند کیجریوال تینوں نے مل کر آندولن کا خواب دیکھا تھا، لیکن اب ان کے خلاف سازش رچی جارہی ہے۔ وشواس نے کہا کہ پارٹی میں کچھ بھی غلط ہو گا تو وہ اس کے خلاف بولتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹکٹ تقسیم میں گڑبڑی، انتخابات میں مسلسل شکست سے کارکن مایوس ہیں اور نظر انداز محسوس کر رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ٹکٹ تقسیم میں گڑبڑی کے معاملے کے بہانے وشواس نے منیش سسودیا، سنجے سنگھ جیسے لیڈروں پر نشانہ لگایا۔ کمار وشواس نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے ایک ویڈیو 'وی دی نیشن' سے لوگ ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، 'وہ کمار وشواس کی آواز نہیں ملک کی آواز تھی ... اور اس کے لئے پارٹی، حکومت یا کوئی بھی نظام ناراض ہو تو مجھے پرواہ نہیں۔' وشواس نے کہا کہ ویڈیو کے لئے وہ معافی نہیں مانگیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز