یومِ مزدور: نہیں ملتی مزدوروں کو راحت، پیٹ بھرنے کے لئے بچے بھی کررہے ہیں کام

لکھنؤ۔ آج یوم مزدور ہے ۔ اس دن کی اپنی اہمیت ہے کیوں کہ اسی دن مزدوروں کو راحت پہنچانے، انہیں انصاف دلانے، ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے وعدے کئے جاتے ہیں ۔

May 01, 2017 05:58 PM IST | Updated on: May 01, 2017 05:58 PM IST

لکھنؤ۔ آج یوم مزدور ہے ۔ اس دن کی اپنی اہمیت ہے کیوں کہ اسی دن مزدوروں کو راحت پہنچانے، انہیں انصاف دلانے، ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے وعدے کئے جاتے ہیں ۔ انہیں جھوٹی تسلیاں دی جاتی ہیں اور ان کے زخموں پر لفظوں کے مرہم رکھے جاتے ہیں ۔ سیاسی اورسماجی لوگوں کے لئے یہ دن کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو لیکن مزدوروں کو صرف اتنا معلوم ہے کہ اگر انہوں نے آج کام نہیں کیا تو انہیں روٹی نہیں ملے گی ۔ بڑے بڑے سمیناروں اور اے سی کمروں میں بیٹھ کر حکومت کی اسکیموں کی تعریف کرنے والے اور راج نیتاوں کے قصیدے پڑھنے والے لوگوں کو چاہئے کہ وہ کبھی راج محلوں اور اے سی ہالوں سے نکل کر سسکتی بلکتی زندگیوں کا بھی زمینی مشاہدہ کریں جس سے انہیں کم از کم  خود احتسابی کا موقع تو مل سکے۔

حکومتوں، سماجی تنظیموں اور سربراہوں کے دعوے کتنے سچے ہیں، اس بات کا اندازہ لکھنؤ کے ان کاریگروں سے لگایا جا سکتا ہے جو یومِ مزدور سے واقف ہی نہیں۔ قسمت اورغربت نے ان ہاتھوں میں اوزار تھما دیئے ہیں جن میں کتابیں  اور قلم ہونے چاہئے تھے۔ آری،  زردوزی اور چکنکاری سے جڑے کاریگر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن کام نہیں ہے ۔  بچے اسکول جانا چاہتے ہیں لیکن پیسہ نہیں ہے ۔ سب کاساتھ  سب کا وکاس کا نعرہ دینے والے شاید نہیں جانتے کہ ہندوستان کا بچپن اسکول جانے کے لیے مچل رہا ہے۔ روٹی کے لئے تڑپ رہا ہے ۔

یومِ مزدور: نہیں ملتی مزدوروں کو راحت، پیٹ بھرنے کے لئے بچے بھی کررہے ہیں کام

کون کہتا ہے وکاس نہیں ہورہا ہے ۔ ترقی نہیں ہورہی  ہے۔ دیکھئے ترقی کس طرح ہوئی ہے کہ اہم دستکاروں اور فنکاروں نے قدیم فن اورآبائی ہنرکو چھوڑ کر رکشہ چلانا شروع کردیا ہے ۔ اس تبدیلی کو چاہے ترقی کا نام دے کر سیاست کی جائے یا ان غریبوں سے زندگی کا حق چھین کر وکاس اورخوش حال بھارت کے دعوے کئے جائیں۔ سچ یہی ہے کہ ان مزدوروں کے لیے نہ پہلی حکومتوں نے کچھ کیا اور نہ موجودہ حکومت کچھ کر رہی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز