معاشرے کی بیڑیاں توڑ کر یوپی کے اس گاؤں کی خواتین نے آزادی کے بعد پہلی بار ڈالا ووٹ

یوپی کے لکھیم پور کھیری ضلع کے سہرواں گاؤں میں ووٹ کی لائن میں لگیں یہ خواتین عام نہیں ہیں۔ ان خواتین نے بدھ کو برسوں پرانی روایت کو توڑا ہے۔

Feb 15, 2017 04:24 PM IST | Updated on: Feb 15, 2017 04:25 PM IST

لکھنئو۔ کیا آپ جانتے ہیں، اتر پردیش میں ایک ایسا بھی گاؤں ہے، جہاں آزادی کے بعد سے خواتین نے ووٹ ہی نہیں ڈالا۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے یا ان کا ووٹر کارڈ ہی نہیں بن سکا ہے۔ دراصل مرد پردھان سماج کی داداگیری کی وجہ سے ان خواتین کو اب تک ووٹ ڈالنے سے محروم رکھا گیا تھا۔ لیکن بدھ کو آخر کار اس گاؤں کی خواتین نے سماجی بیڑیاں توڑیں اور پہلی بار ووٹ دیا، خوب کیا۔

یوپی کے لکھیم پور کھیری ضلع کے سہرواں گاؤں میں ووٹ کی لائن میں لگیں یہ خواتین عام نہیں ہیں۔ ان خواتین نے بدھ کو برسوں پرانی روایت کو توڑا ہے۔ گھر کی دہلیز سے نکل کر پہلی بار یہ پولنگ بوتھ تک پہنچی ہیں۔ اس سے پہلے اس گاؤں کی خواتین نے آج تک بوتھ کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ انہیں اب تک یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ ای وی ایم کیا ہوتا ہے۔

معاشرے کی بیڑیاں توڑ کر یوپی کے اس گاؤں کی خواتین نے آزادی کے بعد پہلی بار ڈالا ووٹ

اب برسوں بعد گاؤں کے مردوں کی طرف سے باندھی گئیں بیڑیاں توڑ کر انہوں نے ووٹ دیا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد پولنگ بوتھ کے باہر كھڑی رخسانہ کہتی ہیں کہ ہمیں کافی خوشی ہے۔ وہیں ریحانہ کہتی ہیں لگتا جیسے ہمارے پنکھ ہی لگ گئے ہوں۔

voting 2lakhimpur-mahila

گاؤں کے سابق پردھان نتھولال کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے ہی اس گاؤں کے مرد خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیتے تھے۔ چاہے ہندو ہو یا مسلمان، تمام مردوں کا یہ فرمان تھا کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ آزادی کے بعد سے اب تک یہ ایک طرح سے اس گاؤں کی روایت ہی بن چکی تھی۔ گاؤں کے پردھان حسیب اللہ کہتے ہیں کہ کچھ تعلیم کا اجالا ہے اور کچھ لوگوں میں بڑھتی بیداری کا اثر ہے۔ معاشرہ بدل رہا ہے تو ہم بھی بدل گئے ہیں۔

آج جب ووٹنگ شروع ہوئی تو کچھ خواتین بوتھ پر آنا شروع ہوئیں۔ آہستہ آہستہ ہندو ہو یا مسلمان تمام خواتین نے ووٹ دیا۔ حال یہ تھا کہ کچھ خواتین نے تو ای وی ایم کو پہلی بار دیکھا۔ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ووٹ ڈالنا کیسا ہے، بٹن کہاں دبانا ہے۔ پولنگ اہلکاروں کی مدد سے آخر یہ ووٹ ڈالنے میں کامیاب ہوئیں۔

نتھو لال اور حسیب اللہ نتھو لال اور حسیب اللہ

ویسے اس روایت کو توڑنے میں ضلع انتظامیہ نے بھی جی توڑ کوشش کی۔ افسروں کے کئی دورے اس گاؤں میں ہوئے، جہاں لوگوں کو ووٹ دینے کے حق کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ شروع میں گاؤں کے مرد خواتین کو بوتھ تک بھیجنے کے حق میں نہیں تھے لیکن بعد میں وہ راضی ہو گئے۔ گاؤں کے ہی علیم اللہ بتاتے ہیں کہ پچھلی بار کافی کوشش کے بعد آنگن باڑی کارکنان نے ووٹ ڈالا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز