جموں و کشمیر : سیکورٹی اہلکاروں نے لشکر طیبہ کے اعلی کمانڈر بشیر لشکری کو مار گرایا ، 2 عام شہریوں کی بھی موت

Jul 01, 2017 02:00 PM IST | Updated on: Jul 01, 2017 06:39 PM IST

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے ایک شدید مسلح تصادم میں لشکر طبیہ کے دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ مہلوک دہشت گردوں میں لشکر طیبہ کا اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکری بھی شامل ہے۔ مسلح تصادم کے دوران فائرنگ کے مختلف واقعات میں ایک خاتون سمیت دو عام شہری جاں بحق جبکہ دو درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے اُس رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس میں جنگجو محصور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت بشیر احمد وانی عروف بشیر لشکری ساکنہ ککرناگ اور اعجاز احمد ملک ساکنہ آرونی بج بہاڑہ کے بطور کی گئی ہے۔

بشیر لشکری کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ گذشتہ ماہ (جون) کی 16 تاریخ کو ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل میں ریاستی پولیس کی ایک پارٹی پر کئے گئے گھات حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس گھات حملے میں اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) اچھہ بل فیروز احمد ڈار کے سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے گذشتہ ہفتے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ اچھہ بل میں پولیس پارٹی پر حملہ بشیر لشکری نے ہی انجام دیا تھا۔

جموں و کشمیر : سیکورٹی اہلکاروں نے لشکر طیبہ کے اعلی کمانڈر بشیر لشکری کو مار گرایا ، 2 عام شہریوں کی بھی موت

ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی پولیس نے بشیر لشکری کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ اکتوبر 2015 میں لشکر طیبہ کی صفوں میں شامل ہونے والے بشیر لشکری کو جنگجوؤں سے متعلق اے پلس پلس زمرے میں رکھا گیا تھا۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو جھڑپ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے مذکورہ گاؤں میں گذشتہ رات تلاشی آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب سیکورٹی فورسز ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر جھڑپ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتوں جاں بحق ہوگئی۔ مہلوک خاتون کی شناخت 40 سالہ طاہرہ بیگم کے بطور کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گولی لگنے سے زخمی ہونے والی طاہرہ کو ضلع اسپتال اننت ناگ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ دفاعی ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ مسلح تصادم دو جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کے قبضہ سے دو ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں۔ دریں اثنا مسلح تصادم کے مقام پر سیکورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک عام شہری جاں بحق جبکہ کم از کم دو درجن دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین مسلح تصادم میں دو جنگجوؤں اور دو عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ضلع کے مختلف حصوں میں شدید احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے پورے ضلع اننت ناگ میں انٹرنیٹ خدمات معطل کردی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام اسکولوں و کالجوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق دیالگام میں بشیر لشکری سمیت دو جنگجوؤں کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کی خبر پھیلتے ہی نذدیکی دیہات سے لوگوں بالخصوص نوجوانوں نے ہجوموں کی صورت میں مسلح تصادم کے مقام کی طرف پیش قدمی شروع کی۔

سیکورٹی فورسز نے احتجاجی لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے پہلے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کا احتجاجیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ سیکورٹی فورسز نے بعدازاں پتھراؤ کے مرتکب احتجاجیوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کو ضلع اسپتال اننت ناگ لے جایا گیا، جہاں سے ایک زخمی نوجوان کو سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا۔ تاہم مذکورہ نوجوان جس کی شناخت شاداب احمد کے بطور کی گئی ہے، شیر کشمیر انسٹی چیوٹ میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ شاداب کا چہرہ گولی لگنے سے شدید متاثر ہوا تھا۔ اس دوران پولیس نے کہا کہ مسلح تصادم کے مقام پر رہائشی مکانوں میں پھنسے سبھی 17 عام شہریوں کو بحفاظت باہر نکالا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع اننت ناگ میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز