کشمیر میں یوپی سے تعلق رکھنے والا لشکر طیبہ جنگجو سندیپ شرما گرفتار

Jul 10, 2017 01:32 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 04:02 PM IST

سری نگر۔ وادی کشمیر میں اپنی نوعیت کے پہلے واقعہ میں ریاستی پولیس نے جنگجو تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ ایک غیرریاستی جنگجو کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار شدہ جنگجو کی شناخت سندیپ کمار شرما ساکنہ مظفر نگر اترپردیش کے بطور ظاہر کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سندیپ کمار یکم جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں مارے گئے لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدہ غیرریاستی جنگجو مختلف بینک ڈکیتیوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔

سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وادی میں انیس سو نوے کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش کے دوران کسی غیر ریاستی جنگجو (جموں وکشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کی کسی دوسری ریاست کے شہری) کی گرفتاری کا پہلا واقعہ ہے۔

کشمیر میں یوپی سے تعلق رکھنے والا لشکر طیبہ جنگجو سندیپ شرما گرفتار

جموں وکشمیر کے آئی جی پولیس منیر خان سری نگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اترپردیش سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گرد سندیپ کمار شرما کو میڈیا اہلکاروں کے سامنے پیش کرتے ہوئے۔ تصویر، یو این آئی۔

انہوں نے غیر ریاستی شہری کے وادی میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث رہنے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وادی میں کام کررہے غیر ریاستی مزدوروں کی تعداد 5 سے 7 لاکھ کے درمیان ہے۔ ان میں سے بیشتر مزدوروں کا تعلق شمالی ہندوستان کی ریاستوں اترپردیش اور بہار سے ہے۔ کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے پیر کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں لشکر طیبہ جنگجو سندیپ کمار کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لشکر طیبہ دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم مجرموں کو کشمیر میں بینک ڈکیتیوں اور جنگجویانہ سرگرمیاں انجام دینے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اب وادی میں غیرریاستی مزدوروں کی نگرانی بڑھانی ہوگی۔ آئی جی پی نے کہا ’لشکر طیبہ ماڈیول سے وابستہ دو افراد سندیپ کمار شرما عرف عادل ساکنہ مظفر نگر یو پی اور منیب شاہ ساکنہ کولگام کو گرفتار کیا گیا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’جرائم پیشہ افراد اپنے ذاتی اغراض کے لئے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ یہ امر باعث تشویش ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا ہمیں مستقبل میں سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ ایک نیا رجحان ہے۔ ہمیں ملک کے مختلف حصوں سے کشمیر آنے والے مزدوروں کی نگرانی بڑھانی ہوگی۔ ہمیں اب ان کی (غیرریاستی مزدوروں کی) ویریفکیشن کرنا پڑے گی‘۔ منیر خان نے کہا کہ شرما سیکورٹی فورسز پر ہوئے مختلف حملوں کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا ’ وہ گذشتہ ماہ (جون) کی 16 تاریخ کو ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل میں ریاستی پولیس کی ایک پارٹی پر کئے گئے گھات حملے میں بھی ملوث تھا‘۔ اس گھات حملے میں اسٹیشن ہاوس آفیسر (ایس ایچ او) اچھہ بل فیروز احمد ڈار کے سمیت 6 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ آئی جی پی نے کہا کہ لشکر طیبہ جنگجو سندیپ شرما گذشتہ ماہ کی 3 تاریخ کو سری نگر جموں قومی شاہراہ پر لور منڈا قاضی گنڈ کے مقام پر فوجی قافلے پر کئے گئے حملے میں بھی ملوث تھا۔ اس حملے میں فوج کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا تھا۔

انہوں نے کہا ’شرما جنگجوؤں کے اس گروپ کا بھی حصہ تھا جس نے 13 جون 2017 کو اننت ناگ کے آنچی ڈورہ میں ہائی کورٹ کے ریٹائیرڈ جج کی رہائش گاہ میں قائم پولیس گارڈ روم سے ہتھیار اڑا لئے‘۔ منیر خان نے کہا کہ شرما متعدد جنگجویانہ کاروائیوں کے علاوہ جنوبی کشمیر میں قریب آدھ درجن بینک و اے ٹی ایم ڈکیتیوں میں ملوث تھا۔ آئی جی پی نے سندیپ شرما کی گرفتاری کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان 17 یرغمالیوں میں شامل تھا جن کو پولیس نے یکم جولائی کو دیالگام اننت ناگ میں ہوئے مسلح تصادم کے دوران بچا لیا تھا۔ انہوں نے کہا ’ہمیں غیر مقامی شہری (سندیپ شرما) کی اس جگہ موجودگی پر شک ہوا جہاں لشکر طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے پناہ لے رکھی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران شرما نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ وہ لشکر طیبہ ماڈیول کا حصہ تھا‘۔

آئی جی پی نے کہا کہ شرما سال 2012 میں کشمیر آیا اور ایک ویلڈر کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ تاہم وہ لشکر طیبہ میں شامل ہونے سے قبل شبیر احمد نامی ایک مقامی نوجوان کے رابطے میں آگیا۔ انہوں نے کہا کہ شرما لشکر طیبہ سے وابستہ رہنے کے دوران جنگجویانہ سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سندیپ کمار یکم جولائی کو جنوبی ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں مارے گئے لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا۔ ریاستی پولیس نے بشیر لشکری کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ اکتوبر 2015 میں لشکر طیبہ کی صفوں میں شامل ہونے والے بشیر لشکری کو جنگجوؤں سے متعلق اے پلس پلس زمرے میں رکھا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز